Al-Risala · November 2010 · page 27

اسلام کا تصور انسانیت

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۰، صفحہ ۲۷

دوسرے انسانوں کی نسبت سے اپنی ذمے داریوں کو ادا کرنے والا ہو۔ اس معاملے میں، اسلام کے احکام اتنے زیادہ سخت ہیں کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ— خدا کی قسم وہ شخص مومن نہیں، خدا کی قسم شخص مومن نہیں، خدا کی قسم وہ شخص مومن نہیں جس کے شر سے اس کا پڑوسی امن میں نہ ہو۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سچا مسلم وہ ہے جس کی زبان سے اور جس کے ہاتھ سے لوگ محفوظ ہوں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حقیقی مسلمان اپنے سماج کا ایک پرامن ممبر ہوتا ہے۔ وہ اپنے سماج میں ایک بے مسئلہ انسان (no-problem person) کی حیثیت سے زندگی گزارتا ہے۔ وہ اپنے سماج میں ایک دینے والے (giver) انسان کی حیثیت سے زندگی گزارتا ہے، نہ کہ صرف لینے والے (taker) انسان کی حیثیت سے۔

اسلام میں جان کا احترام اتنا زیادہ ہے کہ کسی انسان کے ناحق قتل کو سب سے بڑا جرم قرار دیا گیا ہے۔ قرآن کی سورہ المائدہ میں ارشاد ہوا ہے کہ— جو شخص کسی انسان کو قتل کرے، بغیر اس کے اس نے کسی انسان کو قتل کیا ہو، یا اس نے زمین میں فساد برپا کیا ہو، تو گویا اس نے سارے انسانوں کو قتل کر دیا، اور جس شخص نے ایک شخص کو بچا لیا تو گویا اس نے سارے انسانوں کو بچا لیا (32:5)۔ قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام ایک ایسا سماج بنانا چاہتا ہے جس میں ہر انسان دوسرے انسان کے لیے آخری حد تک بے ضرر (harmless) بنا ہوا ہو، جس میں ہر انسان دوسرے انسان کے خون کو اتنا ہی محترم سمجھے، جتنا کہ وہ خود اپنے خون کو محترم سمجھتا ہے۔ اسلام ایسا سماج بنانا چاہتا ہے جس میں ہر انسان دوسرے انسان کو اسی طرح زندہ رہنے کا حق دے جس طرح وہ خود اپنے لیے زندہ رہنے کا حق سمجھتا ہے۔ اسلام کے مطابق، سچا انسانی سماج وہ ہے جس میں ہر عورت اور مرد کو یکساں طور پر جینے کا حق حاصل ہو۔

اسلام کے مطابق، انسانی سماج کی تعمیر کے دو بنیادی اصول ہیں— توحید، اور عدل۔ یہ دونوں اصول انسانی سماج کے لیے دو بنیادی رکن کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جس سماج میں یہ دو بنیادی اصول پائے جائیں، وہ سماج اعلیٰ انسانی سماج ہوگا، اور جس سماج میں یہ دو بنیادی اصول نہ پائے

‹ Previous page Next page › Contents of November 2010 All issues

Printed page