اسلام کا تصور انسانیت
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۰، صفحہ ۲۸
جائیں، وہ سماج ایک قسم کا حیوانی سماج ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں کوئی انسانی سماج۔ توحید (oneness of God) کا مطلب ہے— خدا کو ایک ماننا۔ یہ ماننا کہ ایک ہی خدا ہے، اس کے سوا کوئی اور خدا نہیں۔ یہی خدا تمام موجودات کا خالق ہے، یہی خدا تمام کائنات کا انتظام کر رہا ہے۔ خدا کے سوا جو کچھ ہے، وہ سب اسی خدا کی مخلوق ہے۔ یہی وہ عقیدہ ہے جو فرد اور سماج دونوں کو زندگی گزارنے کی درست نظریاتی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ خدا کا تصور انسانی سماج کی صحیح شیرازہ بندی کرتا ہے، خدا کا تصور نہ ہو تو انسانی سماج جنگل کا سماج بن جائے۔
اس سلسلے میں دوسری چیز وہ ہے جس کو عدل (justice) کہا جاتا ہے۔ قرآن کی سورہ الرحمن میں ارشاد ہوا ہے کہ— انصاف کے ساتھ سیدھی ترازو تولوا اور تول میں نہ گھٹاؤ (9:55)۔ قرآن کی اس آیت میں انسانی زندگی کو عدل و انصاف پر قائم کرنے کے لیے ترازو کی مثال دی گئی ہے۔ ترازو ہمیشہ ٹھیک ٹھیک تولتا ہے۔ وہ تول میں نہ کمی کرتا ہے اور نہ زیادتی۔ ترازو اور انصاف کی مادی تمثیل ہے۔ یہی عادلانہ روش انسان سے مطلوب ہے۔
ہر انسان کو چاہیے کہ وہ دوسرے انسان کو اس کا پورا حق ادا کرے۔ اس منصفانہ روش کا تعلق جس طرح مال اور جائداد جیسی چیزوں سے ہے، اسی طرح اس کا تعلق اخلاقی معاملات سے بھی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ دوسروں کے لیے وہی چاہے جو وہ خود اپنے لیے چاہتا ہے، وہ دوسروں کے بارے میں کوئی بیان دے تو اس کا بیان ٹھیک ٹھیک اصل واقعہ سے مطابقت رکھتا ہو، وہ دوسروں کے بارے میں جب کوئی رائے قائم کرے تو اس میں وہ نہ کوئی کمی کرے اور نہ کوئی زیادتی، وہ دوسروں کے بارے میں جب کوئی رپورٹ دے تو اس کی رپورٹ یک طرفہ نہ ہو، بلکہ اس میں دونوں فریق کی پوزیشن کو ٹھیک ویسا ہی بیان کیا گیا ہو، جیسا کہ وہ حقیقت ہے— عدل و انصاف پر مبنی یہی وہ سماج ہے جس کو اسلامی سماج کہا جاتا ہے۔
اس سلسلے میں ایک سوال یہ ہے کہ انسانی سماج کی تشکیل پر امن بنیادوں پر کس طرح کی جائے ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ انسانوں کے درمیان مختلف قسم کے فرق (differences)
‹ Previous page Next page › Contents of November 2010 All issues