دریافت، دریافت، دریافت
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۰، صفحہ ۴۱
اسلوب کی بنا پر وہ یہ بحث کرنے لگے کہ اصولِ حدیث کے مطابق، وہ درست ہے یا نہیں۔ اگر یہ علماء اس کے اسلوب کو اضافی سمجھتے اور اس کو ایک شخص کے قول کی حیثیت سے لیتے تو غالباً اُن کو اس پر کوئی اعتراض نہ ہوتا۔ اسلوب کا یہ طریقہ ایک معروف طریقہ ہے۔ چوں کہ قرآن کی آیت متکلم کے اسلوب میں ہے، اس لیے اس کی تشریح کرنے والے نے بھی اپنی تشریح کو متکلم کے اسلوب میں بیان کیا۔ یہاں اسلوب کی حیثیت اضافی (relative) ہے، نہ کہ حقیقی (real)۔ اگر اس تشریح کے اسلوب کو بدل دیا جائے اور اس کو قول کے اسلوب میں بیان کیا جائے تو وہ قول یہ ہوگا: كان الله كنزاً مخفيا، فأحبّ أن يُعرف فخلق الخلق۔
2- مسخ کے بارے میں جو بات تذکیر القرآن میں ہے، وہ میری انفرادی رائے نہیں ہے، بلکہ دوسرے علماء اور مفسرین نے بھی اس کی تشریح اس انداز میں کی ہے، جیسا کہ تذکیر القرآن میں اس کا حوالہ موجود ہے۔ آپ نے جو اشکال ظاہر کیا ہے، وہ ایک غیر ضروری اشکال ہے۔ اس کا سبب غالباً یہ ہے کہ آپ نے اس کو بالکل حتمی معنوں میں لے لیا۔ اس طرح کی چیزیں کبھی حتمی معنی میں نہیں ہوتیں ۔ مثال کے طور پر قرآن میں کچھ لوگوں کے بارے میں آیا ہے کہ : ”پھر اس کے بعد تمھارے دل سخت ہوگئے، پس وہ پتھر کی مانند سخت ہوگئے یا اُس سے بھی زیادہ سخت‘‘ (74 :2)۔ اِس آیت کو اگر خالص منطقی معنی میں لیا جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ جس آدمی کا دل پتھر کی مانند سخت ہو جائے تو اس کے بعد اس کے اندر خیر و شر کا احساس مٹ جائے گا، پھر اس کی پکڑ کس لیے۔ کسی بات کو اس طرح اس کی آخری منطقی حد (logical end) تک لے جا کر اس پر رائے قائم کرنا درست نہیں۔
3- ”علمی اسلوب‘‘ کا لفظ دراصل ”سائنٹفک اسلوب‘‘ کا ترجمہ ہے۔ جدید سائنس سے پہلے استدلال کا علمی معیار مقرر نہیں ہوا تھا، مگر موجودہ زمانے میں علمی استدلال کا ایک واضح معیار مقرر ہوگیا ہے۔ مثلاً آپ کا ایک بیان اگر ایک ثابت شدہ بنیاد پر قائم ہو تو وہ ایک علمی بیان ہوگا، ورنہ وہ علمی بیان نہ ہوگا۔ اس کی ایک معروف مثال یہ ہے کہ عباسی دور میں جب حدیثیں جمع کی گئیں تو معلوم ہوا
‹ Previous page Next page › Contents of November 2010 All issues