Al-Risala · November 2010 · page 42

دریافت، دریافت، دریافت

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۰، صفحہ ۴۲

کہ طریقہ عبادت کے بارے میں صحابہ کے درمیان کچھ فرق یا کچھ اختلاف پایا جاتا ہے۔ اب یہ سوال پیدا ہوا کہ کس فرق کو لیا جائے اور کس فرق کو نہ لیا جائے۔ یہاں علماء فقہ نے ترجیح (preference) کا اصول وضع کیا۔ یعنی ایک طریقے کو راجح اور دوسرے طریقے کو غیر مرجوح قرار دینا۔ یہ ایک غیر علمی طریقہ تھا، کیوں کہ اس اصول کے حق میں ذاتی قیاس کے سوا کوئی ثابت شدہ بنیاد موجود نہ تھی۔ اس کے برعکس، حدیث میں آیا ہے کہ: أصحابي كالنجوم، فبأيهم اقتديتم اهتديتم (كشف الخفاء، جلد 1، صفحہ 146)۔ اس حدیث کی موجودگی میں صحیح طریقہ یہ تھا کہ تنوع یا توسع کا طریقہ اختیار کیا جاتا، یعنی ایک صحابی کا طریقہ اختیار کرو تو وہ بھی درست، اور دوسرے صحابی کا طریقہ اختیار کرو تو وہ بھی درست۔ حدیثِ رسول سے واضح طور پر توسع کا طریقہ ثابت ہورہا تھا، لیکن فقہاء نے بطورِ ترجیح کا طریقہ وضع کر لیا۔ توسع کا طریقہ علمی طریقہ ہے، کیوں کہ اس کے پیچھے ایک ثابت شدہ نقلی بنیاد موجود ہے۔ اس کے برعکس، ترجیح کا طریقہ غیر علمی طریقہ ہے، کیوں کہ اس کے پیچھے اس قسم کی کوئی ثابت شدہ علمی بنیاد موجود نہیں۔

علمی اسلوب کے معاملے کو اگر آپ زیادہ تفصیل کے ساتھ جاننا چاہتے ہیں تو زیادہ گہرائی اور سنجیدگی کے ساتھ راقم الحروف کی کتابیں پڑھیں۔ ان شاء اللہ یہ مسئلہ آپ پر واضح ہو جائے گا۔ سوال میں برسہا برس سے ماہ نامہ ’’الرسالہ‘‘ خرید کر اپنی اولین فرصت میں اس کو پڑھتا ہوں۔ عرض یہ ہے کہ کچھ عرصہ قبل الرسالہ میں شائع شدہ آپ کی ایک تحریر نے مجھے اُلجھن میں ڈال دیا ہے۔ آپ نے فرمایا تھا: ’’کسی مسئلہ کو حل نہ کرنا بھی ایک حل ہے۔ ‘‘ یہ کیا معمہ ہے۔ خاکسار اس کی وضاحت کے لیے درخواست گزار ہے۔ (ایم عبد الحکیم، حیدر آباد)

جواب

مذکورہ قول سے مراد وہی تدبیر ہے جس کو دوسرے الفاظ میں عملی حکمت (practical wisdom) کہا جاتا ہے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک مسئلہ سامنے آتا ہے تو فوری طور پر اس کا حل بھی موجود رہتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2010 All issues

Printed page