Al-Risala · December 2010 · page 8

حج کا فائدہ

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۰، صفحہ ۸

حج کا فائدہ

صحیح البخاری (کتاب الحج) کی ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک مومن جب حج ادا کر کے اپنے گھر واپس لوٹتا ہے تو وہ اس دن کی طرح ہو جاتا ہے جب کہ اس کی ماں نے اس کو جنم دیا تھا (رجع كيوم ولدته أمه)۔

He returns after Hajj like a newborn child.

اس حدیث کو سمجھنے کے لیے ایک اور حدیث کو دیکھئے۔ ایک اور روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر پیدا ہونے والا فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اس کے والدین اس کو یہودی اور مجوسی اور نصرانی بنا دیتے ہیں (صحیح البخاری، کتاب الجنائز) ان دونوں حدیثوں پر غور کرنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ حج کی عبادت اگر صحیح اسپرٹ کے ساتھ کی جائے تو وہ حاجی کے لیے وہی چیز بن جاتی ہے جس کو آج کل کی زبان میں ڈی کنڈیشننگ (de-conditioning) کہا جاتا ہے۔

اصل یہ ہے کہ اپنے ماحول کے اعتبار سے ہر آدمی کی کنڈیشنگ ہوتی رہتی ہے۔ حج کی عبادت اس کنڈیشنگ کو توڑنے کا ذریعہ ہے۔ حج ایک ایسا کورس ہے جو ہر آدمی کی کنڈیشنگ کو ختم کر کے اس کو دوبارہ اس کی اصل فطرت پر پہنچا دیتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ جو شخص اس سے پہلے مسٹر کنڈیشنڈ (Mr. conditioned) تھا، وہ اب مسٹر نیچر (Mr. nature) بن جاتا ہے۔ حج کا یہ فائدہ صرف اس شخص کو ملتا ہے جو حج کی پوری اسپرٹ کے ساتھ حج کی عبادت انجام دے۔ جو آدمی صرف حج کے ظاہری مراسم ادا کرے، اس کے لیے حج صرف ایک آؤٹنگ (outing) ہے، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔

حج کے بعد

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی عمر کے آخری حصہ میں حج ادا فرمایا۔ اس موقع پر تمام صحابہ

‹ Previous page Next page › Contents of December 2010 All issues

Printed page