بعثتِ نبوی اور قیامت
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۰، صفحہ ۱۹
میں جاری رہی۔ اس معاملے کی تفصیل درج ذیل کتاب میں دیکھی جاسکتی ہے :
The Conflict between Science and the Religion, by J W Draper (1882)
اس کا سبب یہ ہے کہ مغربی قوموں نے مذہبی عقیدہ اور سائنسی تحقیق کے کام کو ایک دوسرے سے الگ کردیا ، یہاں تک کہ بیسویں صدی کے آخر میں تبئینِ حق کا یہ کام اپنے آخری مرحلے تک پہنچ گیا۔ اب زیادہ تر فطرت کی ان دریافتوں کو دینِ حق کے لیے استعمال کرنا ہے اور ان کی بنیاد پر دین حق کو خود انسانی علم کی سطح پر ثابت شدہ بنانا ہے۔
4- اس سلسلے کا چوتھا کام وہ ہے جس کو حدیث میں ادخال کلمہ ، کہا گیا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ زمین کے اوپر کوئی بھی چھوٹا یا بڑا گھر نہیں بچے گا جس کے اندر اسلام کا کلمہ نہ پہنچ جائے (مسند احمد، جلد، 6 ، صفحہ 4)
واقعات بتاتے ہیں کہ چار مطلوب مرحلوں میں سے تین مرحلے گزر چکے ہیں۔ اب اظہارِ دین بھی ہو چکا ہے اور حفاظت دین کا کام بھی انجام پا چکا ہے۔ اسی طرح تبئینِ حق کا کام بھی بقدرِ ضرورت انجام پا چکا ہے۔ اب اکیسویں صدی میں اہلِ ایمان کو جو کام انجام دینا ہے، وہ ادخال کلمہ ہے، یعنی خدا کی کتاب کو دنیا کے تمام لوگوں تک پہنچا دینا۔ جدید ٹکنالوجی اور کمیونیکیشن کے ذرائع اس بات کا اشارہ ہیں کہ اب اہلِ ایمان کا یہی واحد کام ہے کہ وہ ان جدید مواقع کو استعمال کرتے ہوئے خدا کے کلام اور اس سے متعلق تشریحی لٹریچر کو تمام انسانوں تک پہنچا دیں۔ گلوبل وارمنگ کے نئے ظاہرۃ کے بعد جو حالات پیدا ہوئے ہیں ، وہ مزید یہ بتا رہے ہیں کہ قیامت اب بہت قریب آ چکی ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ اہل ایمان اپنی ساری توانائی کو اس آخری کام میں لگا دیں ، اس سے پہلے کہ صورِ اسرافیل پھونک دیا جائے اور ان کے لیے کچھ کرنے کا موقع باقی نہ رہے۔
آج اگر کوئی شخص یہ چاہے کہ اس کو اظہارِ دین کے عمل کا کریڈٹ ملے تو اب یہ ناممکن ہو چکا ہے۔ اسی طرح حفاظتِ دین کا کریڈٹ بھی لینے والے لے چکے ، اب آج کے لوگوں کے لیے اس کا
‹ Previous page Next page › Contents of December 2010 All issues