معرفت کی پہچان
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۰، صفحہ ۲۱
معرفت کی پہچان
ماہ نامہ الرسالہ، ستمبر 2010 میں 12 صفحات پر مشتمل ایک طویل مقالہ چھپا ہے۔ اس کا عنوان یہ ہے: معرفت _ مقصد انسانیت۔ اس کو پڑھ کر ایک صاحب کا ٹیلی فون آیا۔ انھوں نے کہا کہ الرسالہ کا یہ مضمون مجھ کو بہت پسند آیا۔ اب یہ سوال ہے کہ معرفت کی پہچان کیا ہے، یعنی کوئی شخص کیسے یہ سمجھے کہ اس کو وہ چیز حاصل ہوئی ہے جس کو دین میں معرفت کہا جاتا ہے۔ میں نے کہا کہ قرآن میں اس کی پہچان بتا دی گئی ہے، اور وہ ذکر کثیر (33: 41) ہے، یعنی بہت زیادہ خدا کو یاد کرنا۔ معرفت دراصل رب العالمین کی ڈسکوری ہے۔ جب رب العالمین کی ڈسکوری (دریافت) کسی کو معرفت کے درجے میں حاصل ہو جائے تو اس کے بعد اس کے اندر ایک گہرا ذہنی انقلاب آجاتا ہے۔ اب خدا ہی اس کی سوچ کا مرکز و محور بن جاتا ہے۔ ایسا انسان صبح و شام خدا کو یاد کرتا ہے، وہ ہر لمحہ اس کے بارے میں سوچتا ہے، وہ اسی کا چرچا کرتا ہے۔ یہی اس کے وجود کی سب سے زیادہ نمایاں پہچان بن جاتی ہے۔
یہ انسانی فطرت ہے کہ کسی شخص کو اگر کوئی ایسی چیز مل جائے جس کو وہ بہت بڑی چیز سمجھتا ہو تو وہ خود اپنے فطری تقاضے کے تحت اس کا بہت زیادہ چرچا کرتا ہے۔ اس کو اُس چیز کی یاد میں اتنی لذت ملتی ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ وہ اُسی کے بارے میں سوچتا اور بولتا رہے۔
یہی معاملہ خداوند عالم کی معرفت کا ہے۔ جب کسی شخص کو دریافت کے درجے میں اللہ کی معرفت ہو جائے تو یہ معرفت اس کے ذہن پر چھا جاتی ہے۔ اپنے فطری تقاضے کے تحت، وہ اُسی کے بارے میں سوچتا ہے، اسی کے بارے میں بولتا ہے، حتیٰ کہ اپنی تنہائیوں میں وہ اسی کے تصور میں غرق رہتا ہے۔ اس کا ہر تجربہ اس کے لیے خدا کی معرفت میں ڈھل جاتا ہے۔ جب کسی انسان کا یہ حال ہو جائے تو یہ اس بات کی پہچان ہے کہ اس کو وہ ربانی رزق عطا ہوا ہے جس کو معرفت کہا جاتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2010 All issues