Al-Risala · December 2010 · page 27

بابری مسجد کا مسئلہ

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۰، صفحہ ۲۷

تھے، انھوں نے ہندوستانی پارلیمنٹ سے ایک قانون منظور کرایا جس کا نام یہ تھا: Places of Worship (Special Provisions) Act-1991 اس قانون میں یہ متعین کیا گیا تھا کہ گورنمنٹ آف انڈیا کی یہ ذمے داری ہوگی کہ وہ ملک کے تمام عبادت خانوں کو اُس حالت پر برقرار رکھے جو کہ آزادی کے وقت 15 اگست 1947 میں ان کی حالت تھی۔ اس قانون میں یہ کہا گیا تھا کہ چوں کہ بابری مسجد کا کیس عدالت میں ہے، اس لیے اس معاملے میں حکومت عدالتی فیصلے کا انتظار کرے گی اور فیصلہ آنے کے بعد اس کے مطابق ، اس کی تعمیل کی جائے گی، لیکن مسلمانوں نے اس ایکٹ کو نہیں مانا، انھوں نے اس معاملے کو جلسہ جلوس کا معاملہ بنا دیا۔ اس کے بعد فطری طور پر ہندوؤں میں جوابی ہنگامہ آرائی کا ذہن بنا، یہاں تک کہ ہندوؤں کے ایک پرجوش ہجوم نے 6 دسمبر 1992 کو اجودھیا میں داخل ہو کر بابری مسجد کو ڈھا دیا۔ اُس وقت میں نے کہا تھا کہ ــــ بابری مسجد کو ہندوؤں نے توڑا، اور مسلمانوں نے اس کو توڑوایا۔ 4 - 30 ستمبر 2010 کو عدالت کا جو فیصلہ آیا ہے، مسلمان عام طور پر اس کو اپنے حق میں ناانصافی سمجھتے ہیں۔ ان کا رجحان یہ ہے کہ وہ اس معاملے کو سپریم کورٹ میں لے جائیں اور وہاں سے منصفانہ فیصلہ حاصل کرنے کی کوشش کریں، مگر یہ طریقہ بابری مسجد کے مسئلے کو حل کرنے والا نہیں۔ اس مسئلے میں سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کی صورت میں بالفرض اگر ایسا ہو کہ سپریم کورٹ اس کیس کا فیصلہ مسلمانوں کی موافقرت میں کر دے، تب بھی ہندوؤں کے لیے مزید کارروائی کا دروازہ کھلا رہے گا۔ جیسا کہ معلوم ہے، شاہ بانو کیس (1985) میں سپریم کورٹ نے ایک فیصلہ دیا تھا۔ یہ فیصلہ مسلمانوں کو اپنے خلاف نظر آیا اور انھوں نے اس کو ماننے سے انکار کر دیا۔ چناں چہ اس کے خلاف پورے ملک میں مسلمانوں کی طرف سے مظاہرے شروع ہو گئے، یہاں تک کہ اُس وقت کے وزیر اعظم راجیو گاندھی (وفات: 1991) کو پارلیمنٹ سے ایک نیا ایکٹ بنانا پڑا۔ یہ دروازہ بلاشبہ ہندوؤں کے لیے بھی کھلا ہوا ہے۔ وہ یہ کہہ کر سپریم کورٹ کے فیصلے کو رد کر سکتے ہیں کہ یہ فیصلہ ہمارے مذہبی جذبات کے خلاف ہے، اس لیے ہم اس کو قبول نہیں کر سکتے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2010 All issues

Printed page