بابری مسجد کا مسئلہ
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۰، صفحہ ۲۸
5 - بابری مسجد کے معاملے میں اسلام اور دانش مندی دونوں کا تقاضا یہ ہے کہ اب اس معاملے میں کا (comma) نہ لگایا جائے، بلکہ فل اسٹاپ (full stop) لگا دیا جائے۔ دوسرا کوئی بھی طریقہ صرف مسئلے کو مزید پیچیدہ کرے گا، وہ اس مسئلے کو حل کرنے والا نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اب اس معاملے میں مسلمانوں کے لیے عملاً ایک ہی ممکن انتخاب (option) باقی رہا ہے اور وہ مسجد کا ری لوکیشن (re-location) ہے۔ یہ وہی طریقہ ہے جس کو پٹرول کے ظہور کے بعد عرب ملکوں میں بڑے پیمانے پر اختیار کیا گیا ہے، یعنی سٹی پلاننگ (city planning) کے لیے قدیم مسجدوں کو ری لوکیٹ کرنا۔
موجودہ حالات کے اعتبار سے، اب مسلمانوں کے لیے عملاً صرف دو میں سے ایک کا انتخاب باقی رہ گیا ہے— یا تو وہ اس معاملے میں خود غیر جانب دار ہو کر مزید کارروائی کے لیے اس کو حکومت کے حوالے کر دیں، جیسا کہ دوسرے عدالتی فیصلوں کے معاملے میں ہوتا ہے، یا اگر وہ چاہتے ہیں کہ بابری مسجد کو وہ ایک تاریخی یادگار کے طور پر باقی رکھیں تو وہ ایسا کر سکتے ہیں کہ وہ اس کے ری لوکیشن (re-location) پر راضی ہو جائیں، یعنی کسی دوسرے غیر نزاعی مقام پر اُسی شکل کی مسجد تعمیر کرنا۔ سابق مقام پر دوبارہ بابری مسجد کی تعمیر ایک ایسا غیر حقیقت پسندانہ تصور ہے جو کبھی واقع بننے والا نہیں۔ 6 - اجودھیا کے متنازع مقام پر عدالتی فیصلہ آنے کے بعد عام طور پر مسلمان یہ کہہ رہے ہیں کہ اس فیصلے میں ہمارے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا ہے۔ یہی موجودہ زمانے میں مسلمانوں کا عام ذہن ہے۔ ہر جگہ مسلمانوں کو دوسرے فریق سے یہی شکایت ہے۔ مگر یہ شکایت یقینی طور پر غیر حقیقت پسندانہ ہے۔ یہ شکایت صرف یہ بتاتی ہے کہ مسلمان معاملات کو صرف جذباتی اعتبار سے دیکھتے ہیں، نہ کہ عقل وفہم کے اعتبار سے۔ اسلام کا اصول یہ ہے کہ فرد اور اجتماع کے درمیان فرق کیا جائے۔ قرآن اور حدیث میں اس بات کی سخت تاکید کی گئی ہے کہ فرد کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ انصاف کے راستے پر چلے، وہ اس معاملے میں کسی چیز کو عذر (excuse) نہ بنائے۔ لیکن اجتماع کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ جب کسی اجتماعی معاملے میں دو فریقوں کے درمیان نزاع پیدا ہو جائے تو اُس وقت یہ ممکن نہیں ہوتا کہ
‹ Previous page Next page › Contents of December 2010 All issues