Al-Risala · December 2010 · page 29

خلاصہ بحث

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۰، صفحہ ۲۹

خالص نظری بنیاد (theoretical reason) پر ایسا فیصلہ کیا جائے جو دونوں فریقوں کو منصفانہ فیصلہ نظر آئے۔ ایسے موقع پر صرف یہی ممکن ہوتا ہے کہ عملی تقاضے (practical reason) کو دیکھا جائے اور عملی طور پر جو ممکن ہو، اس کے مطابق، فیصلہ کر دیا جائے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بہت سی ایسی مثالیں ہیں جو اس اصول کی تصدیق کرتی ہیں۔ آپ نے اجتماعی نزاع کے معاملے میں ہمیشہ عملی بنیاد پر فیصلہ کیا، نہ کہ نظری انصاف کی بنیاد پر۔ اس معاملے کی ایک نمایاں مثال صلح حدیبیہ ہے۔ 7- اگر نزاعی معاملے میں یہ صورت پیدا ہو جائے کہ اس میں تبدیلی ممکن نظر نہ آتی ہو، ایسی حالت میں عقل اور اسلام دونوں کا یہ تقاضا ہے کہ موجودہ صورتِ حال (status quo) کو مان کر مسئلے کو ختم کر دیا جائے۔ کیوں کہ کوئی نزاعی معاملہ جب اس نوبت کو پہنچ جائے تو انتخاب (option) صحیح اور غلط کے درمیان نہیں ہوتا، بلکہ اُس وقت انتخاب ممکن اور ناممکن کے درمیان ہو جاتا ہے۔ ایسی حالت میں عقل اور اسلام دونوں کا یہ تقاضا ہے کہ ناممکن کے پیچھے مزید وقت ضائع نہ کیا جائے، بلکہ جو ممکن ہے اُس کو قبول کر لیا جائے۔ اس کا فوری فائدہ یہ ہوگا کہ حالات نارمل ہو جائیں گے اور تعمیر و ترقی کی سرگرمیاں کسی رکاوٹ کے بغیر جاری ہو جائیں گی۔

خلاصہ بحث

خلاصہ یہ کہ لمبی مدت کی نا کام جد و جہد کے بعد اب اجودھیا کا معاملہ نظرثانی (reassessment) کا معاملہ بن چکا ہے۔ اب وہ وقت گزر چکا ہے جب کہ اُن تدبیروں کو دہرایا جائے جن کو اس سے پہلے بار بار بڑے پیمانے پر عمل میں لایا گیا، مگر وہ مکمل طور پر نا کام ثابت ہوا۔ اب آخری وقت آگیا ہے کہ 30 ستمبر 2010 کے پہلے کی تاریخ کو بھلا دیا جائے اور 30 ستمبر 2010 کے بعد سامنے آنے والے حقائق کو ملحوظ رکھتے ہوئے از سر نو اس معاملے میں فل اسٹاپ لگا دیا جائے۔ اس مسئلے میں مزید کا مالگانا، اب صرف اپنی تباہی میں اضافے کا باعث ہوگا، وہ کسی بھی درجے میں مسئلے کا کوئی حل نہیں۔ اس معاملے میں اب اگر کوئی کا مالگا گیا تو وہ یقینی طور پر مسلمانوں کے احساسِ ناکامی میں احساسِ ذلت کے اضافے کے ہم معنی ہوگا، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2010 All issues

Printed page