Al-Risala · December 2010 · page 31

جذباتی قیادت

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۰، صفحہ ۳۱

جذباتی قیادت

ایک پاکستانی مسلمان جو پروفیشن کے اعتبار سے ڈپلومیٹ (diplomate) تھے، انھوں نے ایک امریکن لڑکی سے شادی کی جو کہ کرچن تھی ۔ اس سے ایک بچہ پیدا ہوا جس کا نام دائود (David Coleman Headley) تھا۔

جیسا کہ اس کے چچانے بتایا، نو جوانی کی عمر تک ہیڈلی ایک معتدل اور امن پسند مسلمان تھا، لیکن بعد کو وہ بہت بڑا ملٹنٹ بن گیا۔ 26 نومبر 2008 کو بمبئی پر حملے کا وہی ماسٹر مائنڈ تھا۔ اس نے ڈنمارک کے کارٹونسٹ کے خلاف قاتلانہ حملے کا منصوبہ بنایا۔ اس کی ان متشددانہ کارروائیوں میں سیکڑوں آدمی ہلاک ہوگئے، وغیرہ۔

دائود ہیڈلی کس طرح ایک ملٹنٹ مسلمان بن گیا، اس کا راز اُس نے خود اپنے اْس بیان میں بتایا جو اْس نے شکاگو کی امریکی عدالت میں دیا تھا۔ اس بیان میں اُس نے کہا کہ پاکستان کے شعلہ بار مقرر جوائنڈیا کے خلاف نفرت سے بھری ہوئی تقریریں کرنے کے لیے مشہور ہیں، ان کی تقریریں سن کر میں ملٹنٹ بن گیا۔ اس نے خود یہ اعتراف کیا کہ وہ حافظ سعید کی تقریروں سے متاثر ہوا: Hafiz Mohammad Saeed the hate-spewing jihadi ideologue. But given that Headly has already acknowledged having been inspired by Saeed's anti-India rehetoric and his testimony about the involvement of Lashkar commanders in the Mumbai plot. (The Times of India, March 20, 2010)

یہ مثال موجودہ زمانے میں پوری امت مسلمہ کی تصویر ہے۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے اندر ایسے جذباتی رہنما پیدا ہوئے جن کی پرشور خطابت (rhetoric) نے مسلمانوں کو دیوانہ بنا دیا۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو حدیث میں الثرثارون (الترمذی، رقم الحدیث: 2018) کہا گیا ہے۔ یہی رہنما موجودہ زمانے میں مسلمانوں کی تباہی کے اصل ذمہ دار ہیں۔ رہنماُئی کا کام صرف اْس شخص کو کرنا چاہیے جو غیر جذباتی انداز میں سوچے اور غیر جذباتی بنیادوں پر فیصلے لے سکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2010 All issues

Printed page