خودکشی حرام کیوں
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۰، صفحہ ۳۷
خودکشی حرام کیوں
یکم اکتوبر 2009 کا واقعہ ہے۔ تھنہ منڈی (جموں وکشمیر) کے علاقے میں ایک گاؤں کے اندر ایک واقعہ ہوا۔ ایک عسکریت پسند کمانڈر اپنے دو ساتھیوں کے ہم راہ رات کے وقت ایک گھر میں داخل ہوا۔ ان لوگوں نے گھر کے مرد اور عورت کو اتنا زیادہ مارا کہ وہ بے ہوش ہو کر گر پڑے۔ اُن کو شک تھا کہ یہ لوگ مخبری کا کام کرتے ہیں۔ ان کی 18 سالہ لڑکی رخسانہ اُس وقت گھر کے اندر موجود تھی۔ وہ اس منظر کو دیکھ نہ سکی۔ اس نے فوراً ایک کلہاڑی لے کر پہلے عسکریت پسند کمانڈر کو مار کر گرادیا۔ اس کے بعد تیزی سے اس کی گن چھین کر اُسی گن سے اس کے اوپر کئی فائر کیے۔ عسکریت کمانڈر اسی وقت ہلاک ہو گیا اور اس کے دونوں ساتھی اس کو چھوڑ کر بھاگ گئے۔
اس واقعے میں بہت بڑا سبق ہے۔ انسانی دماغ کے اندر غیر معمولی توانائی موجود ہے، عام حالات میں وہ غیر متحرک رہتی ہے، لیکن جب کوئی شدید جھٹکا لگتا ہے تو دماغ کے اندر موجود یہ توانائی فی الفور جاگ اٹھتی ہے اور ایک لمحے کے اندر آدمی کو ہیرو بنا دیتی ہے۔
مذکورہ لڑکی کے ساتھ ایسا ہی ہوا۔ اس کے والدین کے ساتھ جو ہولناک معاملہ پیش آیا، اس نے اس کے دماغ کے بند خانوں کو کھول دیا۔ ایک لمحے کے اندر اُس نے ناقابل تسخیر پلاننگ کی، چناں چہ اس نے پہلے کلہاڑی کے ذریعے کمانڈر کو مغلوب کیا اس کے بعد بجلی جیسی تیزی کے ساتھ کمانڈر کی گن کو چھینا اور فی الفور گن چلا کر اس کا خاتمہ کر دیا۔
اس موقع پر لڑکی اگر خودکشی کر لیتی تو وہ اس بہادرانہ کارنامے کو انجام دینے سے محروم رہ جاتی۔ خودکشی کو اسلامی شریعت میں اس لیے حرام کیا گیا ہے، تاکہ انسان کی زندگی کو بچایا جائے اور اس کو یہ موقع دیا جائے کہ وہ زندہ رہ کر مستقبل میں کوئی بڑا کارنامہ انجام دے سکے: It is to save a life, so that he may play a greater role in future.
‹ Previous page Next page › Contents of December 2010 All issues