ڈکشنری کافی نہیں
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۰، صفحہ ۳۸
ڈکشنری کافی نہیں
اگر آپ گہر اعلم نہیں رکھتے اور صرف ڈکشنری کی مدد سے قرآن کو پڑھنا چاہتے ہیں تو یقین ہے کہ آپ غلطیاں کریں گے۔ گہرے علم کے بغیر آدمی صرف ڈکشنری یا لغت کی مدد سے نہ قرآن کو سمجھ سکتا، نہ کسی اور کتاب کو۔ اس کا سبب یہ ہے کہ الفاظ کے معانی اس کے سیاق (context) سے متعین ہوتے ہیں۔ اسی طرح ہر لفظ کا ایک لغوی مفہوم ہوتا ہے، اور ایک اس کا استعمالی مفہوم۔ اسی طرح صلہ کے فرق سے بھی الفاظ کے معانی بدل جاتے ہیں۔ جو لوگ اس طرح کی بصیرت نہ (preposition) رکھتے ہوں، وہ کسی کتاب کو درست طور پر نہیں سمجھ سکتے۔
مثلاً انگریزی کی مثال لیجیے۔ کسی گھر میں آگ لگ جائے تو کہا جائے گا:
The house cought fire.
اس جملے میں فائر (fire) کے معنی آگ کے ہیں۔ دوسری طرف، اگر کسی آدمی کو سروس سے برخواست کر دیا جائے تو کہا جائے گا:
He was fired.
اس جملے میں ”فائر“ کے معنی آگ کے نہیں ہیں اور نہ گولی مارنے کے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی سروس ختم کر دی گئی ہے۔ الفاظ کا یہ فرق صرف گہرے علم کے بعد آدمی کو حاصل ہوتا ہے۔ یہی معاملہ قرآن کا ہے۔ مثلاً قرآن کی ایک آیت ہے: أقيموا الدين (13 :42) اس آیت کا لفظی ترجمہ ہے: دین کو قائم کرو۔ جو آدمی صرف لغت کو جانتا ہو اور اس کے اندر علمی بصیرت نہ ہو، وہ اس کا مطلب یہ لے لے گا کہ دین کو غالب کرو، شرعی احکام کو نافذ کرو، حالاں کہ آیت کا یہ مطلب نہیں۔ اس آیت میں دین کی اقامت کا مطلب دین کی پیروی کرنا ہے، نہ کہ دین کو خارجی دنیا میں نافذ کرنا۔ جو آدمی گہری علمی بصیرت نہ رکھتا ہو، اُس کو چاہیے کہ وہ کسی کو اپنا رہنما بنا لے۔ وہ اُس پر اعتماد کرتے ہوئے اس کی نصیحت پر عمل کرے، نہ یہ کہ وہ اپنا رہنما آپ بن جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2010 All issues