He was fired.
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۰، صفحہ ۳۹
سوال وجواب سوال 9 اکتوبر 2010 کو نئی دہلی کے اردو اخبار "راشٹریہ سہارا" میں بابری مسجد کے موضوع پر آپ کا ایک مضمون شائع ہوا۔ اس مضمون کو دیکھنے کے بعد دو مسلمانوں کے درمیان جوگفتگو ہوئی، وہ اس طرح تھی۔ ایک نے کہا: کیا مولانا نے بابری مسجد ہندوؤں کو دے دی۔ دوسرے مسلمان نے جواب دیا: وہ تو بہت پہلے دے چکے ہیں۔ براہِ کرم، اس تبصرہ پر روشنی ڈالیے۔ (محمد شارق، نئی دہلی) جواب یہ تبصرہ محض بے شعوری کا ثبوت ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ تمام مسلمان بابری مسجد کو عملاً چھوڑ چکے ہیں، بابری مسجد اب اُن کا حقیقی کنسَرن (concern) نہیں۔ اب ہر مسلمان، بشمول مذکورہ تبصرہ نگار، مکمل طور پر مادی ترقی کو حاصل کرنے میں مشغول ہے۔ وہ اگر بابری مسجد کا ذکر کرتا ہے تو وہ صرف لپ سروس (lip service) کے طور پر ہوتا ہے۔
اس حقیقت پر غور کیجیے تو راقم الحروف اور دوسرے مسلمانوں کے درمیان جو فرق ہے، وہ یہ نہیں ہے کہ میں نے بابری مسجد کو دے دیا اور بقیہ مسلمانوں نے نہیں دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ’’دینے‘‘ کے واقعے کا تعلق دونوں طرف سے ہے، فرق صرف یہ ہے کہ میں نے اس معاملے میں جو رویہ اختیار کیا ہے، شعوری طور پر ایک اصول کے تحت اختیار کیا ہے، جب کہ دوسرے مسلمانوں نے اپنا رویہ ذاتی انٹرسٹ (مفاد) کے تحت بنایا ہے، یعنی زبانی طور پر بابری مسجد کا نام لینا اور عملاً اُس سے پوری طرح غیر متعلق ہو کر اپنے دنیوی بہبود کے لیے مصروف رہنا۔
مزید یہ کہ راقم الحروف نے کبھی وہ لفظ استعمال نہیں کیا جو مذکورہ تبصرہ میں میری طرف منسوب کیا گیا ہے۔ اگر کسی کو اس معاملے میں میرا نقطہ نظر بتانا ہے تو اس کو خود میرا لفظ استعمال کرنا چاہیے، نہ کہ اپنا لفظ۔ 6 دسمبر 1992 کو میں نے جو کچھ کہا تھا، وہ یہ تھا— ایک مسجد پر مسلمان چپ ہو جائیں، اور ایک کے بعد دوسری مسجدوں پر ہندو چپ ہو جائیں۔ اُس وقت تمام مسلمان اس پر غصہ ہو گئے تھے، لیکن آج حالات کے
‹ Previous page Next page › Contents of December 2010 All issues