He was fired.
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۰، صفحہ ۴۰
دبائو کے تحت، تمام مسلمان اس کو عملاً اختیار کر چکے ہیں۔ اس دنیا کا قانون یہ ہے کہ اگر آپ ایک بات کو اصول کے تحت نہ مانیں تو آپ کو اُسے دبائو کے تحت ماننا پڑے گا، اور اِسی کا دوسرا نام منافقت ہے۔ بابری مسجد کے معاملے میں دوسرے لوگ جو رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے صرف منافقت ہے، نہ کہ اصول پسندی۔ جو آدمی بابری مسجد کے منہدم کئے جانے کے واقعے کو ظلم کا معاملہ سمجھتا ہے، اُس کو جاننا چاہیے کہ اِس معاملے میں صرف الفاظ بولنا کافی نہیں ہے، بلکہ اُس کو ’’مجاہد‘‘ بن کر اجودھیا پہنچ جانا چاہیے۔ اپنے کاروبار میں مشغول رہتے ہوئے صرف زبان سے مذکورہ قسم کے الفاظ بولنا، واضح طور پر منافقانہ رویہ ہے اور منافقت سے زیادہ بُری کوئی چیز اسلام میں نہیں (4: 145)۔ اِس قسم کی بولی بلاشبہ منافقانہ بولی ہے، نہ کہ مومنانہ بولی۔ سوال آج ساری دنیا کے مختلف حصوں میں مسلمانوں کے جذبات ابھارے جا رہے ہیں۔ کہیں کارٹون بنانے کے واقعات پیش آ رہے ہیں تو کہیں قرآن کریم کی بے حرمتی کی جا رہی ہے۔ ایسی صورت میں اُمتِ مسلمہ کا کیا رول ہونا چاہیے (جیسا کہ ظلم و ستم کو روکنے کا حکم ہے اور نہ روک سکیں تو دعا کرنے کا حکم) برائے مہربانی قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دیں، جیسا کہ آپ کرتے ہیں۔ یہ بتائیں کہ مسلمان روکنے کی پوزیشن میں ہیں یا صرف دعا کرنے کی پوزیشن میں۔ آپ کی بات اور آپ کا انداز سب سے جدا ہے اور مجھے مطمئن کرنے والا ہوتا ہے۔ (حماد احمد، نئی دہلی) جواب یہ کہنا درست نہیں کہ مسلمانوں کے جذبات ابھارے جا رہے ہیں، یا اُن کو مشتعل کیا جا رہا ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ مسلمان بعض واقعات پر غیر ضروری طور پر مشتعل ہو رہے ہیں، وہ غیر ضروری طور پر ان واقعات پر بھڑک اٹھتے ہیں۔ قرآن اور حدیث میں صبر و تحمل پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے، حتی کہ نماز سے پہلے صبر کا حکم ہے: استعينوا بالصبر والصلاة (45: 2)۔ مگر مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ نماز تو دھوم سے پڑھتے ہیں، لیکن وہ صبر کو پوری طرح چھوڑے ہوئے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2010 All issues