He was fired.
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۰، صفحہ ۴۳
یہ ایک پینل ڈسکشن تھا۔ اس میں ٹاپ کے پنیسٹ شامل تھے۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور موضوع پر اظہار خیال کیا۔ اس موقع پر سی پی ایس کی طرف سے شرکاء کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور ’’پرافٹ آف پیس‘‘ مطالعے کے لیے دی گئی جس کو لوگوں نے بہت شوق سے لیا۔
6- نئی دہلی کے اسٹار ٹی وی اور این ڈی ٹی وی نیز کئی اخباروں نے 30 ستمبر 2010 کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو بابری مسجد کے حالیہ فیصلے کے بارے میں تھا۔ اس میں بتایا گیا کہ عدالت کا فیصلہ آنے کے بعد مسلمان اب معاملے کو حکومت کے حوالے کر دیں، تا کہ باہمی امن ہواور تعمیری کاموں کے مواقع کھل جائیں۔ 7- بابری مسجد ورڈکٹ (30 ستمبر 2010) کے بعد صدر اسلامی مرکز نے اس موضوع پر ایک مضمون تیار کیا جو اس شمارے میں موجود ہے۔ یہ مضمون نئی دہلی کے اردو اخبار’’ راشٹریہ سہارا‘‘ (8 اکتوبر 2010) اور ٹائمس آف انڈیا (12 اکتوبر 2010) میں شائع ہوا۔ ہندو مسلم دونوں طبقے کے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور سنجیدہ لوگوں میں اس کو بے حد پسند کیا گیا ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ الرسالہ کا دعوتی فکر اب وقت کی آواز بن چکا ہے۔ اس سلسلے میں لوگوں نے بڑے پیمانے پر اپنے تاثرات بھیجے ۔ یہاں صرف دو تاثر نقل کیے جا رہے ہیں :
• The article is very well written. Maulana’s solution alone will lead to peace between the two communities and put an end to this issue. (Swami Nikhilananda, New Delhi)
• This is to convey my appreciation of your fine essay, 'Babri Masjid Revisited' in 'The Times of India' of 12 October 2010.(Vasumathi Krishnasami, Bangalore)
8- امریکا کے لیے 2 اکتوبر 2010 کی صبح کو صدر اسلامی مرکز نے ایک خطاب کیا۔ اس کو ٹیلی کانفرنسنگ کے ذریعے امریکا کے مختلف شہروں میں سنا گیا۔ یہ ایک گھنٹہ کا خطاب تھا جو انگریزی زبان میں ہوا۔ اس کا موضوع یہ تھا: Establishing contact with God. خطاب کے بعد سوال و جواب کا پروگرام ہوا۔ یہ پروگرام آدھ گھنٹے تک جاری رہا۔
9- جیسا کہ معلوم ہے ، سی پی ایس انٹرنیشنل کے تحت 3-2 اپریل 2010 کو نئی دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سنٹر میں الرسالہ مشن کے ممبران کا ایک دعوتی اجتماع (Dawah Meet) ہوا تھا۔ اس اجتماع سے غیر معمولی طور پر دعوتی اور تربیتی فائدہ ہوا۔ اس میں بہت سے ایسے افراد تھے جو الرسالہ مشن کے تحت لمبی مدت سے عملاً دعوتی کام کر رہے ہیں ، مگر انھوں نے کبھی صاحب مشن (مولانا وحید الدین خاں صاحب) سے براہ راست ملاقات نہیں کی تھی۔ اس کے باعث ان کے ذہن میں مختلف قسم کے سوالات تھے ۔ اجتماع میں شرکت کے بعد انھوں نے بتایا کہ مولانا کو دیکھ کر ہی ہمارے تمام سوالات ختم ہو گئے اور دعوت کی نئی اسپرٹ ہمارے اندر پیدا ہو گئی۔ اس سلسلے میں مختلف ساتھیوں کے کچھ تاثرات
‹ Previous page Next page › Contents of December 2010 All issues