Al-Risala · January 2010 · page 7

No victors, only survivors

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۰، صفحہ ۷

روانہ ہوئے۔ راستے میں حسب معمول کاروں کی بھیڑ نظر آئی۔ میں نے سوچا کہ ہمارے ملک میں سڑکیں تو چوڑی نہیں کی گئیں، البتہ موٹر کار بنانے والی کمپنیوں نے تنگ سڑکوں پر کاروں کی بھر مار کر دی۔ اب اُس میں مزید اضافہ یہ ہوا ہے کہ ایک بڑی کمپنی نے سستی کار بنائی ہے جس کا نام نینو (Nano) ہے۔ نینو کے آنے کے بعد سڑکوں پر کاروں کی بھیڑ اتنی زیادہ بڑھ جائے گی کہ انڈیا کے شہروں میں سفر کرنا ہی مشکل ہو جائے گا۔ کوئی کار بنانے والی کمپنی اگر کار بنانے کے بجائے جدید قسم کی بائیسکل بناتی تو یہ غالباً قوم کی زیادہ بڑی خدمت ہوتی۔

جب ہم لوگ ائیر پورٹ کے سامنے پہنچے تو وہاں بہت زیادہ بھیڑ دکھائی دی۔ ہمارے ساتھ دو گاڑیاں تھیں ۔ اپنی عادت کے مطابق، میں نے کہا کہ اس بھیڑ میں کہاں گاڑی کھڑی کریں گے اور کس طرح کتابوں کے یہ کارٹن اندر لے جائیں گے۔ یہ سوچ کر میں پریشان ہو رہا تھا۔ لیکن ہمارے ساتھی مسٹر جت ملہوتر ا بالکل مطمئن تھے۔ انھوں نے اطمینان کے ساتھ کہا: Maulana, it is angel's problem. اور واقعہً ایسا ہی ہوا۔ تمام مراحل اتنی آسانی سے طے ہو گئے، جیسے کہ ہمارے بدلے فرشتے سارا کام کر رہے ہوں۔

ہمارے ساتھ قرآن کا انگریزی ترجمہ دس کارٹن میں موجود تھا۔ دہلی کے اندرا گاندھی انٹر نیشنل ائر پورٹ پر جب اس کو چیک ان (check in) کیا جا رہا تھا تو بکنگ آفس پر بیٹھی ہوئی خاتون نے اس کو وزن کرنے کے بعد کہا کہ اس کا وزن پندرہ کلو ز زیادہ ہے۔ خاتون نے پہلے کہا کہ یہ پندرہ کلو زیادہ ہے، اس کو آپ کم کیجئے۔ ہمارے ساتھی سوچنے لگے کہ کس طرح اس کو کم کیا جائے ۔ مگر تھوڑی دیر کے بعد خاتون نے دوبارہ خود ہی کہا کہ کوئی بات نہیں، جانے دیجئے ۔ چناں چہ ہمارے ساتھیوں نے کتابوں کے پیکٹ کو چیک ان کر دیا۔

عجیب بات یہ ہے کہ عین اُسی وقت ایک اور مسافر آیا۔ اس کا سامان بھی زیادہ تھا۔ ائر پورٹ کی خاتون نے اس کا سامان صرف اُس وقت چیک ان کیا جب کہ اُس نے کچھ سامان نکال کر اُس کا

‹ Previous page Next page › Contents of January 2010 All issues

Printed page