2010ء، فروری، رسالہ
الرسالہ، فروری ۲۰۱۰، صفحہ ۲۵
حیثیت اختیار کرلے ، وہ حکمی (legal) طور پر ہمیشہ کے لیے دارالاسلام ہے۔ ایسے کسی علاقے پر اگر بعد کو غیر مسلموں کا قبضہ ہو جائے تو مسلمانوں کا یہ فرض ہے کہ وہ قابض گروہ سے لڑ کر دوبارہ اُس کو دارالاسلام بنائیں ۔ ایسا کرنا مسلمانوں کے لیے صرف ایک علمی مسئلہ نہیں ہے ، بلکہ وہ اُن کے لیے ایک اعتقادی ذمے داری کی حیثیت رکھتا ہے ۔
قدیم زمانے میں سیاسی طاقت (political might) کو سب کچھ سمجھا جاتا تھا۔ ایسے ماحول میں دارالاسلام کا مذکورہ نظریہ بظاہر ایک معقول (rational) نظریہ معلوم ہوتا تھا۔ لیکن موجودہ زمانہ سیاسی آئیڈیالوجی (political ideology) کا زمانہ ہے۔
ان زمانی تبدیلیوں کے نتیجے میں موجودہ دور میں دارالاسلام کا مذکورہ سیاسی نظریہ ایک غیر معقول (irrational) نظریہ بن چکا ہے۔
اسی نظریے کے مطابق موجودہ زمانے میں سیاسی افکار کا ارتقا ہوا ہے، اور اسی نظریے کے مطابق ، اقوام متحدہ (UNO) کے عالمی منشور (Universal Declaration of Human Rights) پر دنیا بھر کی تمام قوموں نے دستخط کیے ہیں جس کے تحت ایک ملک کی دوسرے ملک پر حکم رانی نا قابلِ تسلیم قرار پا چکی ہے ۔
موجودہ زمانے میں مختلف مسلم ملکوں میں جو جہادی گروپ سرگرم ہیں ، وہ دارالاسلام کے اسی قدیم فقہی مسئلے سے اپنا نظریہ اخذ کر رہے ہیں ۔ اُن کا ماننا ہے کہ مسلم ایمپائر کے زمانے میں جو علاقے مسلمانوں کے زیرِ اقتدار تھے ، وہ اب بھی حکماً (legally) دارالاسلام کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ مسلمانوں کی یہ دینی ذمے داری ہے کہ وہ جہاد کر کے ان علاقوں پر دوبارہ مسلم اقتدار قائم کریں ۔ 9 ستمبر 2001 کو نیو یارک کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملہ اور 26 نومبر 2008 کو ممبئی کے تاج محل ہوٹل پر کچھ انتہائی پسند مسلم تنظیموں کا حملہ اسی فقہی طرزِ فکر کی عملی مثالیں ہیں ۔ دارالحرب کا نظریہ عباسی دور میں جو اسلامی فقہ بنی ، اُس میں مسلم علاقوں کے علاوہ ، دوسرے علاقوں کو دارالحرب کا
‹ Previous page Next page › Contents of February 2010 All issues