دار الکفر کا نظریہ
الرسالہ، فروری ۲۰۱۰، صفحہ ۲۶
درجہ دیا گیا۔ یہ بلاشبہ ایک خود ساختہ نظریہ تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ مسلمان ان علاقوں کے مقابلے میں اصولی طور پر، برسرِ جنگ (at war) کی حالت میں ہیں۔ اس معاملے کو جدید اصطلاح کے مطابق، سرد جنگ (cold war) کہا جا سکتا ہے۔
یہ بلاشبہ ایک تخریبی نظریہ ہے۔ اس نظریے نے مسلمانوں کے اندر وہ ذہن پیدا کیا جس کو ہم اور وہ (we and they) کا نظریہ کہا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد مسلمانوں کے لیے پوری دنیا، دوست اور دشمن (friends and enemies) کے دو مختلف گروہوں میں بٹ گئی۔ تمام مسلمان شعوری یا غیر شعوری طور پر اس تقسمی ذہن کا شکار ہو گئے۔ ان کو مسلمان اپنے نظر آئے، اور دوسری قوموں کے لوگ اُن کو غیر دکھائی دینے لگے۔
اس طرح، دار الحرب اور اس تصور کے تحت پیدا شدہ نظریات نے تمام مسلمانوں کو فکری طور پر غیر معتدل بنا دیا۔ وہ دوسری قوموں کے لیے اُن فرینڈلی (unfriendly) بن گئے، الا یہ کہ کسی ذاتی انٹرسٹ کے سبب سے بظاہر دوسروں کے ساتھ دوستانہ رویئے کا اظہار کیا جائے۔
دار الکفر کا نظریہ
عباسی دور کے علماء اور فقہاء نے جو نظریات بنائے، اُن میں سے ایک بے بنیاد نظریہ دار الکفر کا نظریہ تھا۔ وہ علاقے جہاں کے لوگ مذہبی اعتبار سے اسلام کے دائرے میں داخل نہیں ہوئے، ایسے علاقوں کو انھوں نے دار الکفر کا نام دیا۔ یہ ایک سنگین قسم کی بدعت تھی۔ قرآن بار بار ایسے لوگوں کے لیے انسان کا لفظ استعمال کرتا ہے۔ گویا کہ قرآنی اعتبار سے، ایسے علاقے دار الانسان تھے، نہ کہ دار الکفر، یہ بلاشبہ ایک بھیانک قسم کا مبتدعانہ فعل تھا جس کا ارتکاب ہمارے علماء اور فقہاء نے کیا۔ اس فقہی تسمیہ (nomenclature) کے سنگین نتائج برآمد ہوئے۔ اس تسمیہ کی بنیاد پر بعد کے زمانے میں جو لٹریچر تیار ہوا اور مسجدوں اور مدرسوں میں جس قسم کی باتیں دہرائی جاتی رہیں، اُس کا فطری نتیجہ یہ ہوا کہ تمام دنیا کے مسلمان دوسری قوموں کو کافر سمجھنے لگے۔ کافر کے لفظی معنی صرف منکر کے ہیں۔ لیکن اپنے استعمال کے اعتبار سے وہ ایک سخت قسم کا تحقیری لفظ (derogatory word) بن
‹ Previous page Next page › Contents of February 2010 All issues