دار الکفر کا نظریہ
الرسالہ، فروری ۲۰۱۰، صفحہ ۲۷
گیا۔ اس کے فطری نتیجے کے طور پر یہ ہوا کہ مسلمانوں کے دل میں دوسری قوموں کے لیے خیر خواہی کا جذبہ ختم ہوگیا۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طور اُن کو قابل نفرت سمجھنے لگے۔
دارالکفر کا یہ مبتدعانہ نظریہ اتنا پھیلا کہ تقریبا تمام کتابوں میں وہ کسی نہ کسی طرح شامل ہو گیا، وہ مسلمانوں کی سوچ کا ایک لازمی جز بن گیا۔ اس کے نتیجے میں مسلمانوں کے اندر جو تفریقی مزاج (separatist tendency) پیدا ہوا، وہ بلاشبہ ایک ہلاکت خیز مزاج تھا۔ وہ مسلمانوں کے لیے عالمی برادری کا معتدل حصہ بننے میں مانع ہو گیا۔ اس بنا پر مسلمانوں کے لیے اس دنیا میں صرف دو آپشن باقی رہا— یا تو وہ عالمی برادری سے کٹ کر اپنے آپ کو ایک محدودخول میں بند کر لیں، یا مفاد پرستانہ ذہن کے تحت وہ دنیا میں لوگوں کے ساتھ رہیں۔ اسی دہری روش کا شرعی نام منافقت ہے۔ دارالکفر کا نظریہ سرتاسر ایک خود ساختہ نظریہ ہے۔ قرآن اور حدیث میں اس نظریے کے حق میں کوئی بنیاد موجود نہیں۔ لیکن وہ مسلمانوں کے اندر اتنا زیادہ پھیلا کہ اب شاید کوئی ایک شخص بھی اس نفسیات سے خالی نہیں۔ اس کا سبب غالباً یہ ہے کہ مسلمانوں کو اس نظریے کے ذریعے ایک فرضی یقین (false conviction) حاصل ہوتا ہے۔ تمام دوسرے لوگوں کو کافر قرار دے کر وہ بالواسطہ انداز میں اپنے لیے یہ یقین حاصل کرتے ہیں کہ دوسرے تمام لوگ بھٹکے ہوئے ہیں اور صرف ہم ہیں جو صحیح راستے پر قائم ہیں، دوسرے تمام لوگوں کے لیے جہنم ہے، اور ہمارے لیے ابدی جنت، وغیرہ۔ اسی نظریے کا ایک بھیانک نقصان یہ ہے کہ بعد کے دور میں تقریباً تمام مسلمانوں کی سوچ مسلم رُخی سوچ (Muslim-oriented thinking) بن گئی۔ یہ کہنا بلا مبالغہ درست ہوگا کہ بعد کے زمانے میں مسلمانوں کے اندر انسان رُخی سوچ (man-oriented thinking) کا ارتقانہ ہوسکا، اور اس فکری المیہ کی ذمے داری تمام تر دارالکفر کے اسی فقہی نظریے پر ہے۔
موجودہ زمانہ ایک اعتبار سے تحریکوں کا زمانہ تھا۔ خاص طور پر پرنٹنگ پریس کا دو آنے کے بعد مسلمانوں کے اندر ہر جگہ ہزاروں کی تعداد میں تحریکیں اُٹھیں، مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ ان میں سے کوئی بھی قابل ذکر تحریک انسان رخی تحریک نہ تھی ۔ تمام کی تمام معلوم تحریکیں، مسلم رُخی تحریکیں تھیں۔ اس
‹ Previous page Next page › Contents of February 2010 All issues