Al-Risala · February 2010 · page 37

چھوٹی بات پر انتہائی فیصلہ

الرسالہ، فروری ۲۰۱۰، صفحہ ۳۷

2- قرآن میں آیا ہے کہ ایک مظلوم شخص کو اس بات کی اجازت ہے کہ وہ ظالم کے خلاف آواز حق بلند کرے اور اس دوران اگر مظلوم کی زبان سے کچھ ناشائستہ الفاظ نکل جائیں تو اللہ تعالیٰ اس کی پکڑ نہیں کرتا، کیوں کہ وہ مظلوم کی مظلومیت کو جانتا ہے اور اس کی آہ و فغاں کو سنتا ہے، اس لئے وہ درگزر سے کام لیتا ہے اور وہ ظالم کے خلاف اس کی فریاد کو قبول کرتا ہے۔ ارشادِ خداوندی ہے: لا يحب الله الجهر بالسوء من القول إلا من ظلم، وكان الله سميعا عليما (النساء: 148) یعنی اللہ بدگوئی کو پسند نہیں کرتا مگر یہ کہ کسی پر ظلم ہوا ہو، اور اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔

اسی طرح ایک اور حدیث میں ظالم بادشاہ کا ظلم روکنے کے لئے اس کے سامنے انصاف کی بات کہنا افضل جہاد بتایا گیا ہے: عن أبي سعيد الخدري قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم أَفْضَلُ الْجِهَادِ كلمة عدل عند سلطان جائر (أبو داؤد، كتاب الملاحم، باب الأمر والنهي؛ الترمذي، كتاب الفتن، باب أفضل الجهاد كلمة عدل؛ ابن ماجه، كتاب الفتن، با ب الأمر بالمعروف)

”حضرت ابوسعید خدری بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، سب سے افضل جہاد ظالم بادشاہ کے سامنے انصاف کی بات کہنا ہے“۔

کچھ لوگ اس حدیث کو دعوت الی اللہ کے معنی میں لیتے ہیں مگر حدیث کے سیاق اور الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ صحیح نہیں ہے۔ کیوں کہ اگر ایسا ہوتا تو پھر متن حدیث میں کلمہ عدل (انصاف کی بات) کے بجائے ”کلمہ حق“، ”حق کی بات) کا فقرہ ہوتا۔ نیز حدیث کا آخری فقرہ ”سلطان جائر“ (ظالم بادشاہ) بھی آیا ہے جو اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ یہاں ”کلمہ عدل“ سے مراد دعوت الی اللہ نہیں، بلکہ ایک ظالم حکمران کو ظلم سے روکنا مراد ہے اور اس کے سامنے عدل اور انصاف کی بات کہنا ہے تا کہ وہ بھی اپنی رعایا سے عدل اور انصاف کا معاملہ کرے۔ اس طرح ان واضح دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ ظلم اور بربریت کے خلاف علم بغاوفت اٹھانا

‹ Previous page Next page › Contents of February 2010 All issues

Printed page