چھوٹی بات پر انتہائی فیصلہ
الرسالہ، فروری ۲۰۱۰، صفحہ ۳۸
اور حق اور انصاف کی خاطر اٹھ کھڑا ہونا کوئی غیر شرعی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ ایسا کرنا عین شریعتِ اسلامی کے مطابق معلوم ہوتا ہے۔ لیکن اگر اس ظلم پر خاموشی اختیار کی جائے تو وہ ظلم کی حمایت اور اعانت تصور کی جائے گی۔ نیز ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص ظالم حکمران کو تقویت دینے کے لئے اس کے ساتھ چلے، یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ ظالم ہے تو وہ اسلام سے باہر سمجھا جائے گا: عن أوس بن شرحبيل أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول من مشى مع ظالم ليقوّيه وهو يعلم أنه ظالم فقد خرج من الاسلام - (رواه البيهقى؛ مشكوة، باب الظلم، الفصل الثالث)
حضرت اوس بن شرحبیل سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا، جو شخص کسی ظالم کو تقویت پہنچانے کے لیے اس کے ساتھ چلے اور وہ یہ جانتا ہو کہ وہ ایک ظالم ہے تو وہ شخص اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔
اِس ساری تفصیل کے بعد سوال یہ ہے کہ آپ کی کتاب ’’فکرِ اسلامی‘‘ کے حوالے سے اوپر دئے گئے اقتباس اور مندرجہ بالا دوسری احادیث کے درمیان جو نمایاں اختلاف نظر آتا ہے، اُن کے درمیان کس طرح تطبیق دی جائے گی (غلام نبی کشافی، سری نگر، کشمیر)
جواب
اگر کوئی حکم راں آپ کو ظالم نظر آئے تو شرعی اعتبار سے، اس کے خلاف عمل کی دو صورتیں ہیں— خروج، اور نصیحت۔ خروج کا مطلب ہے مسلح بغاوت، اور نصیحت کا مطلب ہے پُرا من خیر خواہی۔ میرے مطالعے کے مطابق، ظالم کے خلاف مسلح بغاوت حرام ہے۔ مگر جہاں تک خیر خواہانہ نصیحت کا معاملہ ہے، وہ عین جائز ہے، بشرطیکہ وہ مثبت نتیجہ پیدا کرنے والی ہو۔ ظالم حکم راں کے خلاف مسلح خروج اس لیے حرام ہے کہ وہ ہمیشہ کاؤنٹر پروڈکٹیو (counter productive) ثابت ہوتا ہے، اور جو چیز الٹا نتیجہ پیدا کرے، وہ نہ عقل کے مطابق
‹ Previous page Next page › Contents of February 2010 All issues