Al-Risala · February 2010 · page 39

چھوٹی بات پر انتہائی فیصلہ

الرسالہ، فروری ۲۰۱۰، صفحہ ۳۹

درست ہو سکتی ہے اور نہ دین کے مطابق۔ میں ذاتی طور پر مسلح بغاوت کے خلاف ہوں، مگر جہاں تک خیر خواہانہ نصیحت کی بات ہے، میں ہمیشہ اس پر عامل رہا ہوں۔ مثال کے طور پر ملاحظہ ہو راقم الحروف کی کتاب’’ہند۔ پاک ڈائری‘‘۔

اس معاملے میں آپ نے جو حدیثیں نقل فرمائیں ہیں، اُن سے آپ کا دعویٰ ثابت نہیں ہوتا۔ ان حدیثوں میں وہی بات کہی گئی ہے جس کا میں خود ہمیشہ قائل رہا ہوں۔ قرآن اور حدیث سے آپ نے جو حوالے دئے ہیں، ان کی وضاحت نمبر وار ذیل میں درج کی جاتی ہے:

1۔ ابنِ حبان کی جو روایت آپ نے نقل کی ہے، اُس سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ کوئی حکم راں مبینہ طور پر ظالم ہو تو اہلِ ایمان کو یہ نہیں کرنا چاہیے کہ وہ اس کے جھوٹ کو سچ بتانے لگیں، بلکہ اُنھیں اس کے جھوٹ کو جھوٹ بتانا چاہیے۔ یہ واضح طور پر ایک پر امن اظہارِ خیال کا معاملہ ہے، نہ کہ تشددانہ ٹکراؤ کا معاملہ۔ اور اس قسم کے پر امن اور خیر خواہانہ اظہارِ خیال سے کسی کو اختلاف نہیں ہو سکتا۔ ’’ظلم پر اعانت‘‘ کا مطلب صرف یہ ہے کہ اہلِ ایمان کسی مبینہ ظالم کا آلۂ کار نہ بنیں، بلکہ وہ اُس سے الگ رہیں اور اس کے لیے اصلاح کی دعا کرتے رہیں۔

2۔ سورہ النساء کی جو آیت آپ نے نقل کی ہے، اس میں واضح طور پر ’’قول‘‘ کی بات کہی گئی ہے، نہ کہ کسی قسم کے عملی تصادم کی بات۔ اس آیت سے جو کچھ معلوم ہوتا ہے، وہ یہ کہ ایک شخص اگر مظلوم ہے تو اس کو یہ حق ہے کہ وہ پر امن قول کے دائرے میں رہتے ہوئے ظالم کے خلاف بولے۔ یہ عین وہی بات ہے جس کو میں بار بار لکھتار ہاہوں۔

3۔ تیسرے نمبر پر آپ نے جو حدیث نقل کی ہے، وہ کسی مبینہ ظالم کے خلاف ’’کلمہ‘‘ یا قول کی اجازت دیتی ہے، نہ کہ عملی تصادم کی اجازت۔ ایک شخص اگر مبینہ طور پر ظالم ہو تو اہلِ ایمان کو بلاشبہ یہ حق ہے کہ وہ اس کے خلاف امن اور انصاف اور خیر خواہی کی شرائط کے ساتھ اپنے جذبات کا اظہار کریں۔ اس حدیث میں بھی واضح طور پر ’’کلمہ‘‘ کی اجازت ہے، نہ کہ ٹکراؤ اور جنگ کی اجازت۔ 4۔ چوتھے نمبر پر آپ نے جو حدیث نقل کی ہے، وہ بھی واضح طور پر ’’مشی‘‘ کے بارے میں ہے،

‹ Previous page Next page › Contents of February 2010 All issues

Printed page