چھوٹی بات پر انتہائی فیصلہ
الرسالہ، فروری ۲۰۱۰، صفحہ ۴۰
نہ کہ جنگ کے بارے میں ، یعنی اگر کوئی شخص مبینہ طور پر ظالم ہو تو ظلم پر اس کا ساتھ دینا اہل ایمان کے لیے جائز نہیں۔ ایسے مواقع پر اہل ایمان کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ ظالم کے حق میں دعا کریں ، وہ اس کو خیر خواہانہ انداز میں نصیحت کریں ، وہ مکمل طور پر امن کے دائرے میں رہتے ہوئے اس کی اصلاح کی کوشش کریں۔
آپ نے لکھا ہے کہ’’ اگر ظلم پر خاموشی اختیار کی جائے تو وہ ظلم کی حمایت اور اعانت تصور کی جائے گی‘‘۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ خاموشی کا معاملہ نہیں ہے بلکہ حدیث کے مطابق ، وہ استطاعت کا معاملہ ہے ، یعنی اس طرح کے معاملے میں دخل دینے کا اصول یہ ہے کہ اس کے نتیجہ (result) کو سامنے رکھا جائے ۔ اگر دخل دینے سے نتیجہ برعکس نکلتا ہو تو صرف دعا کی جائے گی۔ دعا کے سوا کوئی اور عملی اقدام نہیں کیا جائے گا۔ اس معاملے کو آپ مشہور حدیث’’من رأى منكم منكراً الخ‘‘ (صحيح مسلم، كتاب الإيمان، باب كون النهي عن المنكر من الإيمان) کے مطالعے سے بخوبی طور پر سمجھ سکتے ہیں۔
ماہ نامہ جام نور (نئی دہلی) کے سوال نامے کا جواب کیا پارلیمنٹ کو تسلیم کرنا خدا کی حاکمیت کا انکار ہے موجودہ زمانے میں کچھ لوگوں نے اسلام کی سیاسی تعبیر کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ سیاسی تعبیر بلاشبہ ایک سیاسی بدعت تھی۔ اس کے نتیجے میں بہت سے خود ساختہ مسائل پیدا ہوئے۔ مثلاً ان لوگوں نے اپنی خود ساختہ تعبیر کی بنا پر یہ اعلان کیا کہ — پارلیمنٹ کو تسلیم کرنا خدا کی حاکمیت کا انکار ہے۔ یہ بات بلاشبہ لغو یت کی حد تک غلط ہے۔ اس نظریے کا ماخذ خود سیاسی تعبیر کرنے والوں کا اپنا ذہن ہے، نہ کہ اسلام کی اپنی تعلیمات ۔ اسلام کی وہی تعبیر درست تعبیر ہے جو قر آن اور سنت سے نہ ٹکراتی ہو ، اور مذکورہ قسم کا تصور بلاشبہ قر آن اور سنت سے ٹکراتا ہے۔ یہاں میں اس سلسلے میں تین مثالیں دوں گا۔
حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے میں قدیم مصر میں ایک مشرک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ یہ
‹ Previous page Next page › Contents of February 2010 All issues