Al-Risala · February 2010 · page 41

چھوٹی بات پر انتہائی فیصلہ

الرسالہ، فروری ۲۰۱۰، صفحہ ۴۱

ایک شاہی خاندان (dynasty) تھا، جس کو ہکساس کنگڈم (Hyksos Kingdom) کہا جاتا تھا۔ پیغمبر یوسف نے اس کے اقتدار (sovereignty) کو تسلیم کیا اور اس کے تحت ایک سرکاری عہدہ قبول کر لیا۔ یہ مثال اہلِ اسلام کے لیے ایک رہنما مثال ہے، کیوں کہ اسلام میں تمام پیغمبروں کو رہنما کی حیثیت سے تسلیم کیا گیا ہے (الأنعام: 90)۔

دوسری مثال یہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں تھے تو وہاں دار الندوہ کو قبائلی حاکمیت کی حیثیت حاصل تھی۔ آپ نے دار الندوہ کی اس حیثیت کو عملاً تسلیم کیا۔ اسی بنا پر آپ کو مکہ میں رہنے کا موقع ملا۔ اگر آپ دار الندوہ کی حاکمانہ حیثیت کا انکار کرتے تو آغاز نبوت ہی میں مکہ سے آپ کا اخراج کر دیا جاتا۔

اسی طرح مکی دور میں صحابہ کی ایک جماعت نے پڑوسی ملک حبش (Abyssinia) کی طرف ہجرت کی۔ وہاں اُس وقت ایک مسیحی بادشاہ نجاشی (Negus) حکومت کرتا تھا۔ صحابہ کی اس جماعت نے نجاشی کے اقتدار کو تسلیم کیا۔ اس بنا پر صحابہ کی جماعت کو حبش میں قیام کرنے کا موقع ملا۔ صحابہ کی اس جماعت نے حبش کا یہ سفر رسول اللہ صلی اللہ کے حکم سے کیا تھا۔ یہ زمانہ کلی ریاست (totalitarian state) کا زمانہ تھا۔ اُس زمانے میں اس کے سوا کوئی دوسری صورت ممکن نہ تھی۔ جمہوری حکومتوں میں الیکشن کا بائیکاٹ اسلام کی سیاسی تعبیر کرنے والے لوگ یہ کہتے ہیں کہ ــ جمہوری حکومتوں میں الیکشن کا بائیکاٹ کیا جائے ۔ یہ بات بھی سرتا سر بے بنیاد ہے۔ ان حضرات کی غلطی یہ ہے کہ وہ نہیں جانتے کہ جمہوریت کیا ہے، اس کے باوجود وہ اس قسم کا خود ساختہ مسئلہ بیان کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت، اسلام کے عین موافق ہے۔ اس کا بائیکاٹ کرنا دیوانگی کے سوا اور کچھ نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت کرکے مدینہ پہنچے تو آپ نے ایک منشور (declaration) جاری کیا۔ اس منشور میں رسول اللہ ﷺ نے جو دفعات شامل کی تھیں، اُن میں سے ایک دفعہ تھی: لليهود دينهم وللمسلمين دينهم۔ یہ عین وہی چیز تھی جس کو موجودہ زمانے میں جمہوری اصول کہا جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2010 All issues

Printed page