الیکشن کا بائیکاٹ اور پارلیمنٹ کی مخالفت
الرسالہ، فروری ۲۰۱۰، صفحہ ۴۲
جمہوریت ، لادینیت کا نام نہیں ہے ، بلکہ جمہوریت شرکت اقتدار (power-sharing) کا نام ہے۔ جمہوریت کا کوئی تعلق کسی مذہبی عقیدے سے نہیں ہے۔ جمہوریت کی تعریف اکثریتی حکومت (majority rule) کے الفاظ میں کی جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مشترک قومی دائرے میں آبادی کی اکثریت کے اعتبار سے فیصلے کیے جائیں ، اس طرح کہ اقلیت کے انسانی حقوق بھی پوری طرح محفوظ رہیں۔
اسلام کی سیاسی تعبیر کرنے والے لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ جمہوری حکومت چوں کہ لادینی حکومت ہوتی ہے ، اس لیے اہل اسلام کو اس کے الیکشن کا بائیکاٹ کرنا چاہیے۔ اس قسم کی بات نہ صرف دیوانگی ہے ، بلکہ وہ مسلمانوں کو سیاسی اچھوت بنانے کے ہم معنی ہے۔ اس قسم کی بات ہرگز اسلامی تعلیم کے مطابق نہیں۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ جہاں تک عقیدے کا معاملہ ہے ، آپ کسی سے کوئی سمجھوتہ نہ کریں۔ لیکن جہاں تک سیاسی ڈھانچے کی بات ہے ، اس میں مسلمانوں کو آخری حد تک سمجھوتہ کرنا چاہیے ۔ کیوں کہ ایسے حالات میں سمجھوتہ نہ کرنا ، سیاسی خودکشی کے ہم معنی ہے۔ اور خودکشی کسی بھی اعتبار سے اسلام میں جائز نہیں۔
الیکشن کا بائیکاٹ اور پارلیمنٹ کی مخالفت
جو لوگ الیکشن کا بائیکاٹ کریں اور پارلیمنٹ کی مخالفت کی بات کریں ، وہ ہرگز مسلمانوں کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے ۔ اُن کا کیس اسلام کا کیس نہیں ہے ، بلکہ بے بصیرتی کا کیس ہے۔ جو لوگ بے بصیرتی کے باوجود رہنمائی کے میدان میں قدم رکھیں ، وہ صرف مسلمانوں کی تباہی کا باعث بنیں گے۔ ایسے لوگ ایک عرب شاعر کے اس شعر کا مصداق ہیں:
إذا كان الغراب رئيس قوم سيهديهم إلى دار البوار
یعنی جب کو اکسی قوم کا سردار بن جائے تو یقینا وہ اُن کو لے جا کر تباہی کے گڑھے میں گرا دے گا۔ اب یہ سوال ہے کہ جمہوری حکومتوں میں مسلمان اپنی مذہبی زندگی اور سیاسی پوزیشن کو کسی طرح بہتر بنا سکتے ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ مسلمان ، اسلام کے اُس اصول کو اپنائیں جس کو قرآن کی
‹ Previous page Next page › Contents of February 2010 All issues