Al-Risala · January 2011 · page 9

دعوت کا حوصلہ

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۱، صفحہ ۹

دعوت کا حوصلہ

21 اپریل 2010 کو ایک واقعہ ہوا۔ نئی دہلی کے تین مورتی آڈیٹوریم میں سٹینییل ڈیولپمنٹ (Sustainable Development) کے موضوع پر ایک سیمینار تھا۔ اس سیمینار میں ٹاپ کے لوگ آئے ہوئے تھے۔ ایک بڑے لیڈر بھی اس میں موجود تھے۔ انھوں نے موضوع پر تقریر کی اور اسٹیج سے اٹھ کر باہر جانے لگے جہاں ان کی گاڑی کھڑی ہوئی تھی۔ ہماری ٹیم کے لوگ وہاں قرآن کا انگریزی ترجمہ لے کر گئے تھے اور لوگوں کو دے رہے تھے۔

ٹیم کی ایک ممبر سعدیہ خان نے جب دیکھا کہ مذکورہ لیڈر باہر جا رہے ہیں تو وہ قرآن کا نسخہ اپنے ہاتھ میں لے کر تیزی سے بڑھیں، تاکہ وہ اس کو مذکورہ ہندو لیڈر کو دے دیں، مگر مذکورہ لیڈر اپنے ساتھیوں کے ہمراہ چلتے ہوئے گاڑی تک پہنچ گئے۔ سعدیہ خان جب وہاں پہنچیں تو منظر یہ تھا کہ ان کے ساتھیوں نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور مذکورہ لیڈر گاڑی کے اندر داخل ہو گئے۔ دروازہ ابھی پورا بند نہیں ہوا تھا کہ سعدیہ خان تقریباً چلا کر بولیں ـــ ایکسکیوز می سر (Excuse me, sir) مذکورہ لیڈر آواز سن کر ایک لمحہ کے لیے رک گئے۔ اتنے میں سعدیہ خان نے قرآن کا ایک نسخہ ان کے ہاتھ میں دیتے ہوئے کہا ــــ سر، یہ آپ کے لیے ہے:

This is for you, sir

سعدیہ خان کے اندر یہ غیر معمولی حوصلہ کہاں سے آیا، اس کا راز قرآن تھا۔ کوئی اور کتاب سعدیہ خان کے اندر یہ حوصلہ نہیں پیدا کر سکتی تھی۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی انسان کے لیے سب سے بڑا سرمایہ اس کا حوصلہ (courage) ہوتا ہے۔ قرآن بلاشبہ سب سے بڑا سرمایہ حوصلہ ہے۔ داعی وہ ہے جو قرآن کو اس حیثیت سے دریافت کر لے ــــ دعوت، مسلمان کا سب سے بڑا فریضہ ہے اور قرآن کتاب دعوت ہونے کی حیثیت سے اس کے لیے حوصلے کا سب سے بڑا سر چشمہ۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2011 All issues

Printed page