دعا کیا ہے
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۱، صفحہ ۸
دعا کیا ہے
دعاء کوئی سادہ چیز نہیں، دعا دراصل خدا کو انوک (invoke) کرنا ہے۔ دعا گویا کہ خدا کی قدرت کو مخاطب کرنا ہے۔ بلا شبہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایک سچی دعا جب ایک عاجز انسان کی زبان سے نکلتی ہے تو بلا شبہ وہ خدا کی غیرت کے لیے ایک چیلنج کے ہم معنی ہوتی ہے۔ جب ایک عاجز انسان حقیقی سائل بن کر اللہ کے آگے اپنا ہاتھ اٹھاتا ہے تو وہ اپنے مسئلے کو اللہ کا مسئلہ بنا دیتا ہے۔ اُس وقت گویا اللہ کے لیے ممکن نہیں رہتا کہ وہ اس کو خالی ہاتھ لوٹا دے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو ایک حدیث رسول میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: إن الله حيي كريم یستحیی إذا رفع الرجل إليه يديه أن یردہما صفرا خائبتین (الترمذي، رقم الحديث: 3556)
دعا کی ایک صورت یہ ہے کہ آدمی ربنا آتنا فی الدنیا حسنہ الخ جیسی دعائیں یاد کر لے اور اس کو پڑھتا رہے۔ دوسری زیادہ موثر صورت یہ ہے کہ کسی واقعے کو پوائنٹ آف ریفرنس (point of reference) بنا کر دعا کی جائے۔ مثلاً برٹش دور میں لکھنؤ میں ایک کلکٹر تھے۔ ان کا نام صدیق حسن (آئی سی ایس) تھا۔ انھوں نے اُس زمانے کے ایک ڈاکو سُکھوا کو پکڑا اور اس کو ہتھکڑی لگا کر ڈاک بنگلے کے ایک کمرے میں بند کر دیا۔ یہ سخت سردی کا زمانہ تھا۔ رات کے وقت صدیق حسین صاحب راؤنڈ پر نکلے تو اُن کو دیکھ کر سکھوا ڈاکو نے کہا: جنٹ صاحب، آپ کا سکھوا سردی کھا رہا ہے۔ یہ سن کر صدیق حسن صاحب اپنے کمرے میں گئے اور خود اپنا کمبل لا کر سکھوا ڈاکو کو اڑھادیا۔ اس واقعے کو لے کر کوئی کہے کہ خدایا، سکھوا ایک مجرم تھا۔ اسی کے ساتھ وہ ایک عاجز انسان تھا۔ کلکٹر نے سکھوا کے عاجز ہونے کی حیثیت کو اس کے مجرم ہونے کی حیثیت سے الگ کر کے دیکھا اور پھر اس کے ساتھ مہربانی کا معاملہ کیا۔ تو بھی میرے ساتھ اسی طرح کا معاملہ فرما۔ میرے قصور وار ہونے کی حیثیت کو نظر انداز کر اور عاجز ہونے کی حیثیت سے میرے ساتھ رحمت کا معاملہ فرما۔ اگر کوئی بندہ اس طرح کہے تو عین ممکن ہے کہ اللہ اس کی التجا کو قبول کرتے ہوئے اس کو معاف کر دے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2011 All issues