Al-Risala · January 2011 · page 10

لڑ کر مر جانا اسلام نہیں

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۱، صفحہ ۱۰

لڑ کر مر جانا اسلام نہیں

ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے گفتگو ہوئی۔ میں نے کہا کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں سب سے زیادہ جس چیز کی کمی ہے، وہ صبر و تحمل ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمان ہر جگہ اس کمی کی بھاری قیمت دے رہے ہیں۔ انھوں نے کہا۔ کوئی ہمارے گھر میں گھس آئے تو کیا اُس وقت بھی ہم صبر کریں گے۔ میں نے کہا کہ ہاں۔ پھر میں نے اُن کو ایک حدیث سنائی۔ میں نے کہا کہ حضرت سعد بن ابی وقاص کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو فتنے کے دور میں ٹکراؤ سے منع کیا۔ میں نے کہا کہ اے خدا کے رسول ، کیا اُس وقت بھی جب کہ ایک شخص میرے گھر میں داخل ہو جائے اور مجھے قتل کرنے کے لیے اپنا ہاتھ اٹھائے۔ رسول اللہ نے فرمایا کہ اُس وقت تم آدم کے دو بیٹوں میں سے بہتر بیٹے کی طرح بن جاؤ (سنن ابی داؤد، کتاب الفتن والملاحم، باب فی النهی عن السعی فی الفتنة ) ۔ اس حدیث کو سننے کے بعد مذکورہ مسلمان دوبارہ بحث کرنے لگے۔ میں نے کہا کہ آپ کا یہ طریقہ صحیح نہیں۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ اس حدیث کو سننے کے بعد آپ یہ سوچیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا فرمایا ہے تو ضرور اس کے اندر کوئی حکمت (wisdom) ہوگی، اور پھر غور کر کے اُس حکمت کو دریافت کریں۔

غور کیجیے تو اس حدیث کے اندر بہت بڑی حکمت موجود ہے، وہ یہ کہ اس قسم کی صورتِ حال پیش آنے کے بعد تم ردِ عمل کا طریقہ اختیار نہ کرو، بلکہ یہ سوچو کہ تمھارے اقدام کا نتیجہ (result) کیا ہوگا۔ اقدام سے پہلے آدمی کو ہمیشہ اپنے اقدام کے نتیجے پر غور کرنا چاہیے۔ اگر مثبت نتیجہ پیدا کرنا ممکن ہو تو اقدام کرنا چاہیے، ورنہ اقدام سے باز رہنا چاہیے۔ باز رہنے کا مطلب بے عملی نہیں ہے، بلکہ سوچ سمجھ کر عمل کرنا ہے، یعنی جب ٹکراؤ کا معکوس نتیجہ نکلنے والا ہو تو آدمی کو چاہیے کہ وہ پر امن طریقِ کار کو اختیار کرتے ہوئے اپنے مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کرے ۔ اسلام میں لڑ کر مر جانا نہیں ہے، اسلام میں یہ ہے کہ آدمی تعمیری عمل کر کے مثبت نتیجے تک پہنچنے کی کوشش کرے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2011 All issues

Printed page