Al-Risala · March 2011 · page 4

ہدایت اور ضلالت

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۱، صفحہ ۴

ہدایت اور ضلالت

قرآن کی سورہ الاعراف میں ارشاد ہوا ہے: وان یروا سبیل الرشد لا یتخذوه سبیلاً، وإن یروا سبیل الغی یتخذوه سبیلاً (7:146) یعنی اُن کا حال یہ ہے کہ اگر وہ ہدایت کا راستہ دیکھیں تو وہ اُس کو نہ اپنائیں گے اور اگر وہ گمراہی کا راستہ دیکھیں تو وہ اس کو اپنا لیں گے۔ اِس آیت میں جو بات کہی گئی ہے، اِس کا تعلق کسی خاص قوم سے نہیں ہے، بلکہ اِس کا تعلق اہلِ کتاب گروہ کی حالت زوال سے ہے۔ جب کوئی قوم یا امت اِس حال کو پہنچتی ہے تو اس کے اندر زوال یافتہ نفسیات پیدا ہو جاتی ہے۔ اُس کا ذہن وہی بن جاتا ہے جس کا ذکر مذکورہ آیت میں کیا گیا۔ ایسی قوم غیر حقیقت پسندانہ افکار و خیالات میں جینے لگتی ہے۔ اس بنا پر ایسے لوگ اس کے درمیان مقبول ہو جاتے ہیں جو ہائی پروفائل (high profile) میں بولتے ہوں، لو پروفائل (low profile) میں بولنے والا آدمی ان کے درمیان مقبول نہیں ہوتا۔ ایسے لوگ خود احتسابی (introspection) کو پسند نہیں کرتے، البتہ دوسروں کے خلاف بولنا ان کا محبوب مشغلہ بن جاتا ہے۔ پرامن کام ان کی سمجھ میں نہیں آتا۔ اس کے برعکس، تشدد اور ٹکراؤ کی باتیں ان کو بہت اپیل کرتی ہیں۔ دوسروں کا خیر خواہ ہونا اُن کے لیے اجنبی بن جاتا ہے۔ وہ اُن لوگوں کی باتوں کو بہت شوق سے سنتے ہیں جو انھیں دوسروں کے ظلم اور سازش کی کہانیاں سنائیں۔ ان کو عمل اور جدوجہد سے رغبت نہیں ہوتی، اِس لیے وہ مطالبا تی نعروں کے پیچھے دوڑنے لگتے ہیں، وغیرہ۔

یہ سب زوال یافتہ نفسیات کے مظاہر ہیں۔ جو قوم بھی زوال کی حالت کو پہنچ جائے، اس کا انجام یہی ہوگا، خواہ وہ یہود ہوں یا مسلمان۔ زوال یافتہ نفسیات لوگوں کے اندر بے عملی اور جذباتیّت کا مزاج پیدا کر دیتی ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو رُشد (ہدایت) کی بات اپیل نہیں کرتی، البتہ غی (گمراہی) کی بات کی طرف وہ تیزی سے دوڑتے ہیں۔ ایسے لوگ کبھی خدا کی رحمتوں میں حصہ پانے والے نہیں۔ ایسی قوم کی اصلاح کا آغاز صرف یہ ہے کہ اس کے اندر اپنی حالت پر نظر ثانی کا مزاج پیدا کیا جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2011 All issues

Printed page