سب سے بڑی یقین دہانی
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۱، صفحہ ۵
سب سے بڑی یقین دہانی
قرآن کی سورہ الحجر میں پیغمبر کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: فاصدع بما تؤمر وأعرض عن المشركين ۔ إنا كفيناك المستهزئين 94) یعنی جس چیز کا تم کو حکم دیا گیا ہے، اُس کو تم واضح طور پر لوگوں کو سنا دو، اور مشرکوں سے اعراض کرو۔ ہم تمھاری طرف سے استہزا کرنے والوں کے لیے کافی ہیں۔ قرآن کی یہ آیت پیغمبر کے واسطے سے ہر اُس شخص کو خطاب کر رہی ہے جو پیغمبر کے طریقے پر دعوت الی اللہ کا کام کرے ۔ خدا نے نصرت کا جو خصوصی وعدہ اس آیت میں پیغمبر سے کیا ہے، وہی وعدہ یکساں طور پر داعی کے لیے بھی ہے۔ جو داعی بھی قرآن میں بتائی ہوئی شرطوں کو پورا کرے گا، وہ اس وعدہ الہی کا مستحق بن جائے گا، استہزا (mockery) کرنے والوں کا استہزا کچھ بھی اس کے دعوتی مشن کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔
قرآن میں بتائی ہوئی یہ شرطیں دو ہیں ۔ ایک، کسی کمی یا بیشی کے بغیر پیغمبرانہ دعوت پر کھڑا ہونا۔ دوسرے، مخالفین کی منفی باتوں سے مکمل طور پر اعراض کرنا۔ داعی اگر یہ دو شرطیں پوری کر دے تو بلاشبہ وہ مذکورہ نصرت الہی کا مستحق بن جائے گا۔
نصرت کا یہ معاملہ کوئی پر اسرار معاملہ نہیں ہے۔ اصل یہ ہے کہ جب حق کو اُس کی خالص صورت میں پیش کیا جائے تو لوگوں کو وہ اُن کی فطرت کے عین مطابق نظر آتا ہے۔ لوگوں کا خود اپنا دل گواہی دینے لگتا ہے کہ یہ بلاشبہ سچائی ہے۔ ایسی حالت میں، داعی اگر مخالفین سے نہ الجھے تو گویا کہ وہ مخاطبین کو موقع دیتا ہے کہ وہ اپنی فطرت کی آواز کو کسی رکاوٹ کے بغیر سنتے رہیں۔ اس طرح یہ ہوتا ہے کہ داعی جو جواب لوگوں کو دینا چاہتا ہے، وہ زیادہ بہتر طور پر مخاطبین کی خود اپنی فطرت کی طرف سے اُن کو مل جاتا ہے۔ یہی مطلب ہے اس کا کہ اگر تم اعراض کرو تو اللہ تمھاری طرف سے استہزا کرنے والوں کے لیے کافی ہو جائے گا۔ یہ داعی کے لیے اُس کے مشن کے سلسلے میں ایک ایسی یقین دہانی (assurance) ہے جس سے بڑی یقین دہانی بلاشبہ اور کوئی نہیں ہو سکتی۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2011 All issues