Al-Risala · March 2011 · page 6

گروہی ہدایت

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۱، صفحہ ۶

گروہی ہدایت

قرآن کی سورہ البقرہ میں ارشاد ہوا ہے: وقالوا كونوا هوداً أو نصارى تهتدوا، قل بل ملة إبراهيم حنيفاً، وما كان من المشركين (2:135) یعنی وہ کہتے ہیں کہ یہودی یا نصرانی بن جاؤ تو ہدایت پاؤ گے۔ کہو کہ نہیں، بلکہ ابراہیم کا دین (اختیار کرو) جو اللہ کی طرف یکسو تھا، اور وہ شریک کرنے والوں میں نہ تھا۔

قرآن کی اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ کوئی امت جب اپنے دور زوال (de-generation) میں پہنچتی ہے تو اس کا کیا حال ہوتا ہے۔ ایسی امت ہدایت (guidance) کو گروہ (community) سے وابستہ کر دیتی ہے، نہ کہ اصولی تعلیمات سے۔ یہود و نصاریٰ کا یہی حال اپنے دور زوال میں ہوا۔ انھوں نے گروہ کو دین کے ہم معنی سمجھ لیا۔ ان کا عقیدہ یہ ہو گیا کہ وہ ایک نجات یافتہ گروہ ہیں، ہدایت کا معیار یہ ہے کہ آدمی اُن کے گروہ کے ساتھ وابستہ رہے۔ مذکورہ آیت میں ملتِ ابراہیم سے مراد دین ابراہیم ہے۔ گویا کہ یہاں تقابل گروہی ہدایت اور اصولی ہدایت کے درمیان کیا گیا ہے۔ اس اصول کا تعلق صرف قدیم امتوں، یہود و نصاریٰ، سے نہیں ہے، بلکہ بعد کی امت مسلم امت، بھی یکساں طور پر اس کی مخاطب ہے۔ مسلم امت اگر شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ سمجھ لے کہ مسلمان اور اسلام دونوں ایک ہیں۔ وہ یہ عقیدہ بنا لے کہ صرف گروہی اعتبار سے جو لوگ مسلم جماعت میں شامل ہیں، وہ اپنے آپ ہدایت پر ہیں اور اُن کے لیے نجات یقینی ہے تو یہ عقیدہ بھی اتنا ہی زیادہ غلط ہوگا جتنا کہ یہودیوں اور مسیحیوں کا عقیدہ۔

خدا کا دین ہمیشہ اصول پر قائم ہوتا ہے، یعنی اللہ سے شدید محبت اور اللہ سے شدید خوف۔ جو لوگ اپنی زندگی میں اس اصول کو پوری طرح اختیار کریں، وہ خدا کے یہاں ہدایت یاب قرار پائیں گے۔ کسی نسلی جماعت یا کلچرل گروہ سے وابستہ ہونا ہدایت یاب ہونے کا ثبوت نہیں۔ ہدایت کا یہی معیار (criterion) ماضی کے لیے بھی ہے اور ہدایت کا یہی معیار حال کے لیے بھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2011 All issues

Printed page