تدبر قرآن
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۱، صفحہ ۷
تدبر قرآن
قرآن کی سورہ ص میں بتایا گیا ہے کہ: كتاب أنزلناه إليك مبارك ليدبروا آياته وليتذكر أولو الألباب (38: 29) یعنی یہ قرآن ایک بابرکت کتاب ہے جو ہم نے تمھاری طرف اتاری ہے، تاکہ لوگ اس کی آیتوں پر غور کریں اور تاکہ عقل والے اُس سے نصیحت حاصل کریں۔ اس آیت میں تدبر سے مراد تفکر ہے۔ تفکر کیا ہے، تفکر در اصل عقل کو استعمال کرنے کا دوسرا نام ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کو پڑھتے ہوئے اپنی عقل کو کھلا رکھو، کیوں کہ عقلی غور و فکر کے ذریعے ہی کسی کو قرآن سے معنوی نصیحت ملتی ہے، نہ کہ محض لفظی تلاوت سے۔
اس کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی جب قرآن کی تلاوت کرے تو اُس وقت وہ اپنی عقل کو استعمال کرتے ہوئے اس کی تلاوت کرے۔ اسی طرح جب وہ نماز میں قرآن کا کوئی حصہ پڑھے تو وہاں بھی وہ اپنی عقل و فہم کو کھلا رکھتے ہوئقیر آن کی تلاوت کرے۔
کوئی شخص جب اس طرح قرآن کی تلاوت کرے گا تو بار بار ایسا ہوگا کہ قرآن کی کوئی آیت یا قرآن کا کوئی لفظ اس کی عقل کو اسٹرائک (strike) کرے گا۔ ایسے موقع پر آدمی کو چاہیے کہ وہ ٹھہر کر اُس پر غور کرے۔ اس طرح اس کو قرآن سے نصیحت کی غذا ملتی رہے گی۔
مثال کے طور پر قرآن کو پڑھتے ہوئے یہ آیت آپ کے سامنے آئی: فأثابهم الله بما قالوا جنات تجرى من تحتها الأنهار (85: 5)۔ اس آیت کو پڑھتے ہوئے آپ کو یہ حدیث یاد آئی: مَن قال لا إله إلا الله، دخل الجنة (الطبراني، رقم الحديث : 2447)۔ اس کے بعد آپ نے سوچا کہ دونوں آیتوں میں مطابقت کیا ہے۔ پھر غور کرنے کے بعد آپ کی سمجھ میں آئے گا کہ حدیث میں جس قول کا ذکر آیا ہے، اس کی تشریح قرآن سے ہوتی ہے، یعنی حدیث میں جس قول پر جنت کا وعدہ کیا گیا ہے، اُس سے مراد قول معرفت ہے، نہ کہ محض لفظی قول۔ یہی وہ چیز ہے جس کو تدبر اور تفکر (contemplation) کہا گیا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2011 All issues