Al-Risala · March 2011 · page 12

جہاد کیا ہے

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۱، صفحہ ۱۲

جہاد کیا ہے

جہاد کیا ہے۔ جہاد کے لفظی معنی کوشش (struggle) کے ہیں۔ اس میں مبالغہ کا مفہوم پایا جاتا ہے، یعنی بہت زیادہ کوشش کرنا۔ قرآن اور حدیث پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاد کا لفظ تقریباً اسی معنی میں استعمال ہوا ہے جس معنی میں آج کل مشن (mission) کا لفظ بولا جاتا ہے۔ مشن کا مطلب ہے۔ کسی تعمیری مقصد کے لیے سنجیدہ جدوجہد:

Dedicated effort towards a constructive goal.

قرآن میں اس سلسلے میں یہ آیت آئی ہے: وجاهدوا في الله حق جهاده، هو اجتپاکم (78: 22)۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں جہاد کا تعلق اُس مخصوص مشن کے لیے ہے جس کے لیے اہل ایمان کا انتخاب کیا گیا ہے۔ یہ مشن شہادت علی الناس (78: 22) کا مشن ہے۔ اس آیت میں شہادت سے مراد دعوت ہے، یعنی خدا کے پیدا کئے ہوئے انسانوں تک خدا کا پیغام پہنچانا۔ یہی دعوت ہے اور یہی دعوتی مشن وہ نشانہ ہے جس کے لیے اہل ایمان کو بھر پور کوشش کرنا چاہیے۔ اپنی زندگی، اپنا وقت، اپنا پیسہ، اپنے وسائل ہر چیز کو اس مشن میں لگا دینا چاہیے۔ ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: الجهاد ماض منذ بعثني الله إلى أن يقاتل آخر أمتی الدجال، لا يبطله جور جائر ولا عدل عادل (سنن أبى داؤد، رقم الحديث : 2532)

اس روایت کے مطابق، جہاد سے مراد ایک ایسا عمل ہے جو عادل حکمراں کے زمانے میں بھی جاری رہے۔ ایسا عمل صرف پر امن دعوتی مشن ہو سکتا ہے۔ صحیح مسلم کی ایک روایت کے مطابق، دجال سے جو مقابلہ ہوگا، وہ بھی اسلحہ کے ذریعہ نہیں، بلکہ حجت (argument) کے ذریعہ ہوگا (إن يخرج وأنا فيكم فأنا حجيجه دونکم)۔ حقیقت یہ ہے کہ جہاد پر امن دعوتی مشن کا نام ہے۔ دوسری کوئی چیز اس کا صرف اضافی جز (relative part) ہے، نہ کہ حقیقی جز۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2011 All issues

Printed page