Al-Risala · March 2011 · page 21

ڈی کنڈیشننگ کا طریقہ

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۱، صفحہ ۲۱

ڈی کنڈیشننگ کا طریقہ

ہر آدمی کسی ماحول میں پیدا ہوتا ہے۔ یہی ماحول ہر آدمی کا ذہن بناتا ہے۔ ذہنی تاثر پذیری کے اسی عمل کو کنڈیشننگ (conditioning) کہا جاتا ہے۔ یہی بلا استثنا ہر آدمی کا معاملہ ہے۔ ہر آدمی کا ذہن کنڈیشنڈ ذہن (conditioned mind) ہے۔ یہی ہر آدمی کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ یہ کنڈیشننگ ہر آدمی کو فطرت سے ہٹا دیتی ہے۔ اس لیے ضرورت ہوتی ہے کہ ہر آدمی کی ڈی کنڈیشننگ (de-conditioning) کر کے اس کو فطرت کی طرف واپس لایا جائے ۔

اس ڈی کنڈیشننگ کا صرف ایک طریقہ رہے، اور وہ محاسبہ (introspection) ہے، یعنی سخت انداز میں مسلسل طور پر اپنی اصلاح کا عمل جاری رکھنا۔ کسی آدمی کی یہ اصلاح دو طریقے سے ہوتی ہے— یا تو وہ دوسرے شخص کی سخت تنقید کو برداشت کرے، یعنی خارجی ہیمرنگ (hammering) کو کھلے ذہن کے ساتھ قبول کرے ۔ وہ برامانے بغیر دوسرے شخص کی سخت تنقید کو سن کر اپنے آپ پر نظر ثانی (reassessment) کا عمل کرے ۔

اس ڈی کنڈیشننگ کا دوسرا طریقہ وہ ہے جس کو شدید خود احتسابی (self-hammering) کہا جا سکتا ہے، یعنی آدمی اپنے آپ کو دشمن جیسی نظر سے دیکھے۔ وہ ہر صبح وشام اپنا جائزہ لیتا رہے، وہ اپنی ہر غلطی کو شدت کے ساتھ محسوس کرے اور اس کو لے کر اپنا سخت محاسبہ کرے، وہ اپنے اوپر بے رحمانہ تنقید (merciless hammering) کرتا رہے، کسی معاملے میں وہ ہرگز اپنے آپ کو رعایت نہ دے، وہ دوسرے کو الزام دینے کے بجائے ہمیشہ خود اپنے آپ کو ملزم ٹھہرائے، وہ اپنے بارے میں اتنا سخت ناقد بن جائے جیسے کہ وہ اپنا ذبیحہ کررہا ہے۔

ڈی کنڈیشننگ کے یہی دو ممکن طریقے ہیں— آدمی یا تو دوسرے کی بے رحمانہ تنقید کو برداشت کرے، یا وہ خود اپنا بے رحم ناقد بن جائے۔ جو آدمی دوسروں سے میٹھی بات سننا چاہے اور خود ہمیشہ اپنی رعایت کرتا ہے، ایسا آدمی ہمیشہ کنڈیشننگ میں جئے گا، اس کی کبھی ڈی کنڈیشننگ ہونے والی نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2011 All issues

Printed page