Al-Risala · March 2011 · page 22

اتباعِ یہود کا کیس

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۱، صفحہ ۲۲

اتباعِ یہود کا کیس

ڈاکٹر محمد اقبال (وفات: 1938) برصغیر ہند کے عظیم مسلم مفکر مانے جاتے ہیں۔ انھوں نے موجودہ زمانے کے مسلماںوں کے بارے میں کئی باتیں لکھی ہیں۔ اُن کا ایک مصرعہ یہ ہے: یہ مسلمان ہیں جنھیں دیکھ کے شرمائیں یہود!

موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں یہود کی جو صفات آئی ہیں، اُن میں سے ایک ہے۔ اپنے کو مظلوم بتا کر دوسروں کے ظلم پر احتجاج کرنا۔ یہ بلاشبہ یہود کی صفت ہے۔ اس مزاج سے اسلام کا کوئی تعلق نہیں۔ مگر عجیب بات ہے کہ موجودہ زمانے کے تقریبا تمام مسلمان اسی یہودی مزاج کا شکار ہیں۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ یہود کے اندر جب دینی بگاڑ آیا تو انھوں نے دعوتی ذمے داری کو چھوڑ دیا (187:3)، وہ دوسروں کی طرح صرف ایک قوم بن کر رہ گئے۔ اس غفلت کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے یہود پر اپنی تنبیہات (warnings) بھیجیں۔ یہ تنبیہات آسمان سے نہیں آئی تھیں، بلکہ وہ اسباب کی صورت میں انسانوں کے ذریعے اُن پر بھیجی گئی تھیں (17:5)۔ مثلاً بابل (عراق) کے حکمراں بخت نصر (Nebuchadnezzar) کے ذریعے 586 قبل مسیح میں، اور رومی حکمر اں ٹائٹس (Titus) کے ذریعے 70 عیسوی میں۔

مگر یہودی علماء اور قائدین (religious leaders) نے یہ کیا کہ ایسے تمام واقعات کو انھوں نے خدائی تنبیہہ کے بجائے انسانی ظلم کے خانے میں ڈال دیا۔ یہودی لٹریچر اس قسم کی داستانوں سے بھرا ہوا ہے۔ اس پر یہودی علماء نے کثرت سے کتابیں لکھی ہیں۔ مثلاً:

Hasidic Tales of the Holocausts, by Eliach Y, New York, 1982 یہودی علماء کی اس روش کی بنا پر ایسا ہوا کہ جن واقعات کا نتیجہ یہ ہونا چاہیے تھا کہ وہ اُن سے متنبہ ہو کر خدا کی طرف رجوع کریں، اس کے بجائے انھوں نے یہ کیا کہ ان واقعات کو کچھ انسانوں کی طرف منسوب کر کے انھوں نے اُن لوگوں کے خلاف شکایت (complaint) اور احتجاج (protest) کا

‹ Previous page Next page › Contents of March 2011 All issues

Printed page