Al-Risala · March 2011 · page 23

اتباعِ یہود کا کیس

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۱، صفحہ ۲۳

ایک پورا کلچر چلا دیا۔ یہ شکایتی کلچر اتنا بڑھا کہ لغت (dictionary) میں باقاعدہ ایسے الفاظ شامل ہو گئے جو یہود اوپر دوسروں کے ظلم کو بتانے کے لیے وضع ہوئے تھے۔ گویا کہ ظلم یہود کی ایک مستقل ڈکشنری تیار ہوگئی، ظلم یہود کا اتنا زیادہ چرچا ہوا کہ وہ لٹریچر کا ایک جز بن گیا۔ یہودی لٹریچر کا مطالعہ کر کے اُن الفاظ واصطلاحات کو معلوم کیا جاسکتا ہے جو کثرتِ استعمال سے لٹریچر کا جز بن گئے، حتی کہ وہ ڈکشنری میں شامل ہوگئے ۔ ان میں سے کچھ الفاظ یہ ہیں: Pogrom: Organized killing of Jews Holocaust: Killing of millions of Jews by the Nazis, Diaspora: Dispersion of the Jews after the Babylonian exile, Ghetto: Jewish Slum outside the city as a sign of discrimination. حدیث میں آیا ہے کہ بعد کے زمانے کے مسلمان یہود کے طریقے کی پیروی کریں گے۔ (لتتبعن شبراً بشبر وذراعاً بذراع) ۔ یہ اتباع یہود صرف سحر و عملیات جیسی چیزوں میں نہیں ہوگا، بلکہ وہ مذکورہ قسم کی سنت یہود کے بارے میں بھی ہوگا۔ یہود میں یہ خرابیاں زوال (degeneration) کے نتیجے میں آئی تھیں۔ یہی خرابیاں دوبارہ زوال کے نتیجے میں خود مسلمانوں کے اندر بھی یقینی طور پر پیدا ہوں گی۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں یہ خرابی عمومی طور پر پیدا ہوچکی ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمان، عرب اور غیر عرب دونوں آخری حد تک اس کا شکار ہو چکے ہیں۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے تقریباً تمام لکھنے اور بولنے والے صرف ایک کام کر رہے ہیں، اور وہ ہے اپنے مسائل کا الزام دوسروں پر عائد کر کے ان کے خلاف شکایت اور احتجاج کا طوفان برپا کرنا۔ ہر ایک کو مسلم مسائل کے پیچھے’’اغیار‘‘ کی سازش اور دشمنی دکھائی دیتی ہے۔ یہ بلاشبہ یہودی روش ہے۔ صحیح یہ ہے کہ مسلمان اس روش سے توبہ کریں، وہ خود اپنے اوپر نظر ثانی کریں۔ وہ اس صورتِ حال کو خدا کا انتباہ (warning) قرار دے کر خود اپنی کمیوں اور کمزوریوں کو دریافت کریں اور ساری توجہ خود اپنی اصلاح پر لگادیں، نہ کہ مفروضہ ظالموں کے خلاف ہنگامہ آرائی کرکے کے

‹ Previous page Next page › Contents of March 2011 All issues

Printed page