Al-Risala · April 2011 · page 8

انبیاء کا دور

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۱، صفحہ ۸

فجورھا وتقواھا (91:8) صحیح اور غلط کو جاننے کے لیے فطرت کی یہ رہنمائی گویا کہ ایک غیر منطوق رہنمائی (unspoken guidance) ہے۔ یہ رہنمائی پیدائشی طور پر عورت اور مرد کے اندر یکساں طور پر موجود رہتی ہے۔

اسی کے ساتھ خالق نے منطوق رہنمائی (spoken guidance) کا انتظام کیا۔ اس دوسرے انتظام کے تحت، اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں اور ہر بستی میں اپنے پیغمبر بھیجے (24:35)۔ ان پیغمبروں کو وحی (revelation) کے ذریعے وہ رہنمائی بھیجی گئی جس کو قرآن میں الصراط المستقیم (1:5) کہا گیا ہے۔ یہ پیغمبر تاریخ انسانی کے ہر دور میں مسلسل آتے رہے (23:44)۔ آدم، پہلے انسان بھی تھے اور پہلے پیغمبر بھی۔ اس کے بعد حضرت محمد تک جو پیغمبر آئے، اُن کی تعداد حدیث میں تقریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار (1,24000) بتائی گئی ہے (أصول الدين للبغدادی، صفحہ: 157)۔ قرآن میں نام کے ساتھ 25 پیغمبروں کا حوالہ آیا ہے۔

تا ہم جدید ذہن کے نزدیک، یہ تمام پیغمبر غیر تاریخی پیغمبر کی حیثیت رکھتے ہیں، اُن کے نزدیک ان پیغمبروں کو تاریخی پیغمبر (historical prophets) کا درجہ حاصل نہیں۔ پیغمبروں کی پوری تاریخ میں صرف پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا استثنا ہے۔ پیغمبر اسلام محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب مکمل طور پر ایک تاریخی پیغمبر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس حقیقت کا اعتراف ایک مغربی اسکالر نے ان الفاظ میں کیا ہے کہ ــــ محمد تاریخ کی مکمل روشنی میں پیدا ہوئے:

Muhammad was born within the full light of history. پچھلے پیغمبروں کا ذکر تاریخ میں کیوں موجود نہیں، اس کا سبب تاریخ نگاری کا قدیم ذوق ہے۔ قدیم زمانے میں صرف بادشاہوں کے حالات یا جنگ اور فتح کے واقعات قابل ذکر سمجھے جاتے تھے۔ چوں کہ پچھلے پیغمبروں کے ساتھ اس طرح کے سیاسی واقعات جمع نہیں ہوئے، اسی لیے قدیم مورخین نے پیغمبر کو تاریخی طور پر قابل ذکر نہیں سمجھا۔ آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بڑے بڑے سیاسی واقعات آئے، اس لیے آپ کے ہم عصر مورخین نے آپ کے ظہور کو ایک تاریخی واقعہ کی

‹ Previous page Next page › Contents of April 2011 All issues

Printed page