Al-Risala · April 2011 · page 9

انبیاء کا دور

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۱، صفحہ ۹

حیثیت دی اور اپنی کتابوں میں ایک واقعہ کے طور پر اس کا اندراج کیا۔

خدا کی طرف سے جتنے پیغمبر آئے، سب ایک ہی پیغام لے کر آئے اور وہ توحید کا پیغام تھا، یعنی انسان کو چاہیے کہ وہ ایک خدا کا عابد بن کر دنیا میں زندگی گزارے۔ لیکن پچھلے پیغمبروں میں سے کسی پیغمبر کے ساتھ کوئی مضبوط ٹیم جمع نہ ہوسکی، اس لیے ہر پیغمبر کا مشن عملاً توحید کے اعلان (announcement) کے درجے تک پہنچا، وہ توحید پر مبنی انقلاب کے درجے تک نہ پہنچ سکا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تاریخ غیر موحدانہ آئیڈیالوجی پر چلتی رہی، تاریخ کا سفر موحدانہ آئیڈیالوجی پر جاری نہ ہوسکا۔ خدا کی یہ سنت ہے کہ وہ دعوت کے لیے اٹھنے والوں کی تائید فرماتا ہے۔ پچھلے پیغمبروں کو اس مقصد کے لیے جو تائید دی گئی، وہ معجزہ (miracle) تھا۔ مثلاً حضرت موسیٰ کو یہ معجزہ کہ اُن کا عصا ایک زندہ سانپ بن کر زمین پر چلنے لگا۔ مگر اس طرح کے خارق عادت معجزات کے باوجود لوگ پیغمبری کی دعوت کو قبول کرنے پر راضی نہ ہوسکے، معجزہ کو انھوں نے جادو (magic) قرار دے کر رد کر دیا۔ نئی منصوبہ بندی خالق کا وجود ایک نا قابل مشاہدہ وجود ہے۔ اس کے مقابلے میں، مخلوق ایک قابل مشاہدہ چیز کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس بنا پر تاریخ کے آغاز ہی سے ایسا ہوا کہ انسان، مخلوق پرستی یا فطرت پرستی (nature worship) میں مبتلا ہو گیا۔ عبودیت کے فطری جذبات جو خالق کے لیے تھے، اُس کو انسان نے مخلوق کے ساتھ وابستہ کر دیا۔ قرآن کی ایک آیت میں اس حقیقت کی طرف ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے: رب إنهن أضللن كثيراً (36 :14) یعنی جو چیزیں انسان کو زیادہ نمایاں دکھائی دیں، اُن کو اُس نے خدائی کا درجہ دے کر پوجنا شروع کر دیا۔ مثلاً سورج، چاند، ستارہ، پہاڑ اور سمندر، وغیرہ۔

اس طرح تاریخ میں انسان کبھی عمومی طور پر مذہب توحید کو اختیار نہ کر سکا۔ تمام انسانی آبادیوں میں ایک ہی مذہب رائج ہوا، اور وہ مظاہر پرستی کا مذہب تھا۔ اسی مظاہر پرستی کو قرآن میں شرک یا مشرکانہ مذہب کا نام دیا گیا ہے۔ یہ سلسلہ نسل در نسل جاری رہا، یہاں تک کہ شرک کی روایات

‹ Previous page Next page › Contents of April 2011 All issues

Printed page