انبیاء کا دور
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۱، صفحہ ۱۰
تاریخ کے تسلسل میں شامل ہو گئیں۔ اسی واقعہ کو قرآن کی ایک آیت میں ، ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: ولا یلدوا إلا فاجراً كفاراً (71: 27)۔ اسی تاثر پذیری کو موجودہ زمانے میں کنڈیشننگ (conditioning) کہا جاتا ہے۔ قدیم زمانے میں ہر پیدا ہونے والا مشرکانہ روایات کے ماحول میں پیدا ہوتا تھا اور دھیرے دھیرے وہ اُسی میں پختہ ہو جاتا تھا۔ اِس طرح ہر انسان کنڈیشننگ (conditioning) کا کیس بن گیا۔ اِسی کنڈیشننگ کی طرف ایک حدیث میں اِن الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے: كُلُّ مولود يولد على الفطرة، فأبواه يهوّدانه، وينصرانه، ويمجّسانه (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 1319)۔
حضرت ابراہیم بن آزر (وفات: 1985 ق م) قدیم عراق میں پیغمبر بنا کر بھیجے گئے۔ اُن کی غیر معمولی دعوتی کوشش کے باوجود ان کی قوم انکار کی روش پر قائم رہی۔ اُن کے زمانے تک یہ واضح ہو گیا کہ مجرد دعوت یا اندازِ تبشیر لوگوں کی مشرکانہ کنڈیشننگ کو توڑنے کے لیے کافی نہیں۔ نسل درنسل کے روایتی تسلسل نے لوگوں کے ذہن کو شرک پر اتنا زیادہ پختہ کر دیا ہے کہ اب اُن کے ذہنی شاکلہ (framework) کو توڑنے یا ان کی ڈی کنڈیشننگ کرنے کے لیے ایک اور انقلابی منصوبہ درکار ہے۔ یہی وہ خدائی فیصلہ تھا جس کے تحت ہاجرہ اور اسماعیل کو عرب کے صحرا میں بسایا گیا۔ خدا کے حکم سے حضرت ابراہیم اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے چھوٹے بیٹے اسماعیل کو لے کر فرشتہ جبریل کی رہنمائی میں شام سے نکلے ۔ جب بھی وہ راستے میں کسی بستی سے گزرتے تو وہ جبریل سے پوچھتے کہ اے جبریل ، کیا مجھ کو یہاں ٹھہرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ جبریل کہتے کہ نہیں۔ اِس طرح چلتے ہوئے وہ موجودہ مکہ کے مقام پر پہنچے۔ اُس وقت یہاں کوئی آبادی نہ تھی، صرف صحرا تھا یا خشک پہاڑ۔ بالا آخر جبریل کے حکم سے حضرت ابراہیم نے اپنی بیوی اور اپنے چھوٹے بچے اسماعیل کو یہاں بسا دیا۔ حضرت ابراہیم جب اِس طرح ہاجرہ کو چھوڑ کر وہاں سے جانے لگے تو ہاجرہ نے پوچھا کہ آپ ہم کو اِس صحرا (desert) میں چھوڑ کر کہاں جا رہے ہیں۔ ہاجرہ نے کئی بار پوچھا، مگر حضرت ابراہیم نے کوئی جواب نہیں دیا۔ آخر میں ہاجرہ نے کہا کہ کیا آپ کو اللہ نے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے
‹ Previous page Next page › Contents of April 2011 All issues