آخری رسول کا ظہور
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۱، صفحہ ۱۱
(اللَّه أمرك بهذا) حضرت ابراہیم نے کہا کہ ہاں۔ یہ سن کر ہاجرہ نے کہا: اذن لا يُضَيِّعنا الله (صحيح البخاري، رقم الحديث: 3364) یعنی پھر اللہ ہم کو ضائع نہیں کرے گا۔ یہ واقعہ چار ہزار سال پہلے عرب کے صحرا میں پیش آیا۔ اس کے بعد تحریک توحید کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ اس نئے دور کو ایک جملے میں اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے — ایک ایسی قوم تیار کرنا جو مشرکانہ ماحول کی کنڈیشنگ سے پاک ہو۔ یہ مقام جہاں ہاجرہ اپنے چھوٹے بچے کو لے کر آباد ہوئیں ، وہ متمدن شہروں سے بہت دور تھا۔ یہاں دن کے وقت صحرا اور پہاڑ اور سورج دکھائی دیتے تھے اور رات کے وقت چاند اور ستارے نظر آتے تھے۔ اس طرح ایک بے آمیز ماحول میں توالد وتناسل کے ذریعے ایک نئی نسل بننا شروع ہوئی، جو تاریخ میں بنواسماعیل کے نام سے مشہور ہوئی۔ اس نسل کی پرورش ایک انتہائی سادہ اور غیر متمدن ماحول میں ہوئی۔ اس بنا پر وہ مشرکانہ ماحول کی کنڈیشنگ سے محفوظ رہی۔ عام طور پر مورخین اس نسل کو ایک منفرد نسل کی حیثیت سے تسلیم کرتے ہیں۔ اس نسل کے افراد میں انسانی اوصاف اعلیٰ درجے میں موجود تھے۔ قدیم عرب ان اوصاف کو ’المروءة‘ کہتے تھے۔ زیادہ درست طور پر اس کو ’الفطرة‘ کہا جاسکتا ہے۔ اُس دور کے بنواسماعیل کی ان غیر معمولی صفات کی بنا پر ایک مغربی اسکالر نے اُن کو ہیروں کی قوم (a nation of heroes) کا نام دیا ہے۔ ہاجرہ اور اسماعیل کے لیے یہ صحرائی زندگی غیر معمولی قربانی کی حیثیت رکھتی تھی۔ یہ قربانی کسی میدان جنگ میں لڑ کر مر جانے سے ہزاروں گنا زیادہ بڑی قربانی تھی۔ اسی لیے قرآن میں اُس کو ذَبْحِ عَظِيم (107: 37) کہا گیا ہے ، یعنی عظیم قربانی۔ قرآن کی اس آیت میں ذبح عظیم سے مراد مینڈھے کا ذبیحہ نہیں، بلکہ وہ خود اسماعیل کا ذبیحہ ہے۔ چار ہزار سال پہلے حضرت اسماعیل کا بے آب و گیاہ صحرا میں آباد ہونا بلا شبہ ایک عظیم ترین قربانی کا درجہ رکھتا تھا، جسمانی معنوں میں نہیں، بلکہ روحانی معنوں میں۔
آخری رسول کا ظہور
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ایک اعتبار سے، دوسرے رسولوں کی طرح ایک رسول تھے، آپ کی مزید
‹ Previous page Next page › Contents of April 2011 All issues