Al-Risala · April 2011 · page 12

آخری رسول کا ظہور

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۱، صفحہ ۱۲

صفت یہ تھی کہ اسی کے ساتھ آپ خاتم النبیین (33:40) تھے۔ خاتم النبیین کا مطلب صرف یہ نہیں کہ آپ پیغمبروں کی لسٹ کے آخری فرد تھے، پیغمبرِ اسلام کی اصل حیثیت یہ ہے کہ آپ دودوروں کے درمیان حدِ فاصل (line of demarcation) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آپ کے اوپر دعوت توحید کا ایک دور ختم ہوا۔ آپ کے بعد دوسرے دور دعوت کا آغاز ہوا جو قیامت تک مختلف صورتوں میں جاری رہے گا۔ یہاں سوال یہ ہے کہ ختم رسالت کے باوجود انسانی نسل کا سلسلہ برابر جاری ہے، پھر آپ کے بعد آنے والی نسلوں کی پیغمبرانہ ہدایت کی صورت کیا ہو۔ اس کا جواب قرآن کی اس آیت میں ملتا ہے: عسى أن يبعثك ربك مقاماً محموداً (79: 17)۔ قرآن کی اس آیت میں ”مقام محمود“ سے مراد کوئی پر اسرار مقام نہیں ہے، بلکہ ایک معلوم مقام ہے۔ اس کا مطلب ہے — تاریخی طور پر مانا ہوا پیغمبر -(historically acknowledged prophet)

پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جو پیغمبر آئے، اُن کی پیغمبرانہ حیثیت کا تعلق دنیا میں ان کی جسمانی موجودگی سے تھا۔ اُن کی وفات کے بعد اُن پر یقین کرنے کے لیے تاریخی شہادت درکار تھی، مگر تاریخی ریکارڈ میں ان کا حوالہ موجود نہ تھا، اس لیے بعد کی نسلوں کے لیے اُن کی حیثیت تاریخی اعتبار سے، ایک غیر تسلیم شدہ پیغمبر کی ہوگئی۔ جب آدمی زندہ موجود نہ ہو تو صرف تاریخ اس کی زندگی کا ثبوت ہوتی ہے۔ اس بنا پر یہ ہوا کہ انبیاء سابقین اپنی بعد کی نسلوں کے لیے خالص تاریخی اعتبار سے، ہدایت کے مستند مرجع (authentic reference) کی حیثیت سے باقی نہ رہے۔ مثال کے طور پر مشہور برٹش فلسفی برٹرنڈ رسل (وفات: 1970) نے اپنی کتاب ’میں مسیحی کیوں نہیں‘ (Why I am not a Christian) میں حضرت مسیح علیہ السلام کے بارے میں لکھا ہے کہ — تاریخی اعتبار سے یہ امر سخت مشتبہ ہے کہ مسیح کا کبھی وجود بھی تھا:

Historically, it is quite doubtful whether Christ ever existed at all. پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو مقام محمود پر کھڑا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے ساتھ ایسے اسباب اکٹھا کئے جائیں کہ آپ کو تاریخی طور پر ایک مُسلّم پیغمبر کی حیثیت حاصل ہو جائے، تاکہ آپ اپنی

‹ Previous page Next page › Contents of April 2011 All issues

Printed page