Al-Risala · April 2011 · page 13

اصحاب رسول کا دور

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۱، صفحہ ۱۳

وفات کے بعد آنے والی نسلوں کے لیے بھی اُسی طرح ایک قابلِ حوالہ پیغمبر کی حیثیت سے باقی رہیں، جیسا کہ آپ اپنی زندگی میں ایک قابلِ حوالہ پیغمبر کی حیثیت رکھتے تھے۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم واحد پیغمبر ہیں جن کی زندگی اور مشن کے بارے میں مکمل تاریخی ریکارڈ موجود ہے۔ اِسی مسلمہ تاریخی ریکارڈ کو قرآن میں 'مقام محمود' کہا گیا ہے۔ یہی ختمِ نبوت کی سب سے بڑی شہادت ہے۔ جب ایک پیغمبر کی زندگی اور اس کے مشن سے متعلق تمام تفصیلات قابلِ اعتماد صورت میں لکھی ہوئی محفوظ ہو جائیں، تو اس کے بعد یہ مستند تاریخی ریکارڈ پیغمبر کا قائم مقام بن جاتا ہے۔ اس کے بعد یہ ضرورت باقی نہیں رہتی کہ دوسرا پیغمبر آئے۔

اصحاب رسول کا دور

مشہور صحابی رسول عبداللہ بن مسعود کی ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے: اِنّ اللہ نظر فی قلوب العباد فختار محمداً صلی اللہ علیہ وسلم فبعثه برسالته وانتخبه بعلمه، ثم نظر فى قلوب الناس بعده فاختار الله له أصحاباً، فجعله أنصار دينه و وزراء نبيّه (الاستيعاب لابن عبد البر، جلد 1، صفحہ 6) یعنی اللہ نے بندوں کے دلوں کو دیکھا، پس اُس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو چن لیا۔ پیغمبری کے لیے آپ کی بعثت فرمائی اور آپ کو اپنے علم کے مطابق منتخب کر لیا۔ اس کے بعد اللہ نے لوگوں کے دلوں کو دیکھا، اور رسول اللہ کے لیے آپ کے اصحاب کو چن لیا۔ اُن کو اپنے دین کا مددگار اور اپنے نبی کا وزیر بنایا۔

اس روایت سے اور اس طرح کی دوسری روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اصحاب رسول ایک منتخب گروہ کی حیثیت رکھتے تھے۔ یہ اصحاب رسول کون لوگ تھے۔ یہ بنو اسماعیل کی اُس نسل میں پیدا ہونے والے افراد تھے جو خصوصی منصوبہ کے تحت، عرب کے صحرا میں تیار کئے گئے۔ ان کے اندر استثنائی طور پر وہ انسانی کردار موجود تھا جو دعوتِ توحید کی بنیاد پر ایک ٹیم بنانے کے لیے درکار تھا۔ اس کردار کے اہم پہلو قرآن کی ایک آیت میں اِن الفاظ میں بیان کئے گئے ہیں: محمد رسول الله، والذين معه أشداء على الكفار رحماء بينهم (48:29)

‹ Previous page Next page › Contents of April 2011 All issues

Printed page