Al-Risala · April 2011 · page 14

اصحاب رسول کا دور

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۱، صفحہ ۱۴

اس آیت میں ’والذین بمعہ‘ سے مراد ہے— تاریخی عظمت قائم ہونے سے پہلے خالص جوہر (merit) کی بنیاد پر پیغمبر کو پہچانا، اور اس کی تصدیق کر کے اس کے مشن میں کامل طور پر اس کا ساتھی بن جانا۔ صحابہ کی جماعت میں یہ صفت ایک تاریخی استثناء کی حیثیت رکھتی ہے۔ پیغمبر اسلام سے پہلے جو پیغمبر آئے، ان کے معاصرین ان کو پہچاننے میں ناکام رہے۔ صحابہ کے اندر یہ صفت ان کی صحرائی تربیت کے نتیجے میں پیدا ہوئی۔ اس صحرائی تربیت نے اُن کو آخری حد تک حقیقت پسند (realist) بنا دیا۔ وہ اس قابل ہو گئے کہ ایک حقیقت کو وہ اس کی مجرد صورت میں پہچان سکیں ۔ عام طور پر لوگ کسی انسان کو صرف اُس وقت پہچانتے ہیں جب کہ بعد کو اس کے گرد تاریخ کی عظمتیں جمع ہوگئی ہوں۔ صحابہ وہ معاصر اہل ایمان تھے جنھوں نے تاریخی عظمت سے پہلے پیغمبر کو اس کی ساعتِ عسره (117: 9) میں پہچانا اور اس کے مشن کے لیے اپنے آپ کو پوری طرح وقف کر دیا۔

’أشداء على الكفار‘ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ صحابہ منکرین پر سخت یا بے رحم تھے۔ عربی زبان میں کہا جاتا ہے کہ : ھو شدید علی (وہ میرا اثر قبول نہیں کرتا)۔ اس اعتبار سے، اشداء علی الكفار کا مطلب یہ ہے کہ صحابہ اہل انکار کے لیے غیر اثر پذیر افراد کی حیثیت رکھتے تھے۔ اُن کا شعور اتنا زیادہ بیدار تھا کہ وہ ماحول کا اثر قبول کئے بغیر اپنے اسلامی کردار پر قائم رہ سکتے تھے۔ اس واقعہ کو دوسرے الفاظ میں، اس طرح کہہ سکتے ہیں کہ صحابہ اپنے ماحول کی کنڈیشنگ (conditioning) کو قبول نہیں کرتے تھے۔ وہ پوری طرح کنڈیشنگ سے پاک شخصیت (de-conditioned personality) کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان کے اندر یہ استثنائی صفت ان کی صحرائی تربیت کے نتیجے میں پیدا ہوئی۔ یہ لوگ بنواسماعیل کی نسل سے تعلق رکھتے تھے، اور بنواسماعیل کے لیے ان کے صحرائی ماحول میں وہ تمدنی اسباب سرے سے موجود ہی نہ تھے جو لوگوں کی کنڈیشنگ کریں اور اس طرح اُن کو ان کی فطرت سے ہٹادیں۔

’رحماء بينهم‘ کا مطلب سادہ طور پر یہ نہیں ہے کہ صحابہ دوسروں کے لیے مہربان تھے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2011 All issues

Printed page