Al-Risala · April 2011 · page 15

فتنه کا خاتمہ

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۱، صفحہ ۱۵

حقیقت یہ ہے کہ دوسروں کے لیے مہربان ہونا، ایک نہایت مشکل کام ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اجتماعی زندگی میں بار بار دوسروں کی طرف سے ناپسندیدہ روش کا تجربہ ہوتا ہے۔ اس بنا پر عمومی طور پر یہی ہوتا ہے کہ لوگوں کے اندر ایک دوسرے کے لیے نفرت اور شکایت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس بنا پر دوسروں کے لیے مہربان ہونا، صرف اُس وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ آدمی شکاییوں سے اوپر اٹھ جائے۔ وہ اتنا زیادہ باشعور ہو کہ وہ منفی تجربات کو مثبت احساس میں تبدیل کر سکے۔ دوسروں کے لیے مہربان ہونے کا مطلب ہے، یک طرفہ طور پر دوسروں کے لیے مہربان ہونا۔ اس حقیقت کو سامنے رکھا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ صحابہ کے اندر وہ خصوصی صفت موجود تھی جس کو مثبت سوچ (positive thinking) کہا جاتا ہے۔ صحابہ مثبت ذہن رکھنے والوں (positive thinkers) کا ایک گروہ تھے۔ اسی یک طرفہ مثبت سوچ کی بنا پر ان کے لیے یہ ممکن ہوا کہ وہ شکایات کے باوجود لوگوں کے لیے ہمدرد بن جائیں، لوگوں کی طرف سے ناخوش گوار تجربات پیش آنے کے باوجود وہ لوگوں کے لیے خیر خواہ بنے رہیں۔

فتنه کا خاتمہ

صحابہ کی جماعت نے جو کام انجام دیا، اُس میں سے ایک خاص کام وہ ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة، ويكون الدين كله لله (8:39)۔ فتنہ سے مراد وہی چیز ہے جس کو مذہبی جبر (religious persecution) کہا جاتا ہے۔ قدیم زمانے میں مذہبی جبر، مذہب کی نسبت سے سب سے بڑا مسئلہ تھا۔ اسی حقیقت کی طرف قرآن کی سورہ البروج (7-4: 85) میں اشارہ کیا گیا ہے۔

اس عمومی مذہبی جبر کی بنا پر قدیم زمانے میں صرف یہی نہیں تھا کہ مذہب کے بارے میں اختیار (choice) ختم ہو گیا تھا، بلکہ ہر پہلو سے آزادانہ غور و فکر کا خاتمہ ہو گیا تھا۔ حکومتیں اس مذہبی جبر کی سر پرستی کرتی تھیں، کیوں کہ اربابِ حکومت اس کو اپنے سیاسی اقتدار کے باقی رکھنے کے لیے نہایت مفید سمجھتے تھے۔ جمہوری دور میں ایک سیاسی پارٹی ووٹروں سے مینڈیٹ (mandate) حاصل کرتی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2011 All issues

Printed page