Al-Risala · April 2011 · page 16

فتنه کا خاتمہ

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۱، صفحہ ۱۶

قدیم زمانے میں بادشاہ مشرکانہ عقائد سے اپنے لیے حکومت کا حق حاصل کرتے تھے۔ اصحاب رسول کا رول اصحابِ رسول کی تاریخ عملاً چار ہزار سال پہلے، ہاجرہ اُمِ اسماعیل سے شروع ہوتی ہے۔ ہاجرہ کی قربانی اس مشہور قول کی کامل مصداق ہے کہ ــ ہر بڑے واقعہ کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے: There is a woman at the beginning of all great things. ہاجرہ کی قربانی سے وہ اعلیٰ نسل بنی جو تاریخ میں بنو اسماعیل (Ishmilites) کے نام سے مشہور ہے۔ اِسی نسل سے وہ استثنائی افراد نکلے جن کے مجموعے کو اصحابِ رسول کہا جاتا ہے۔ اصحابِ رسول کا رول تاریخ میں کیا تھا، وہ ایک حدیثِ رسول سے معلوم ہوتا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ بدر (2 ہجری) کے موقع پر دعا کرتے ہوئے اپنے اصحاب کے بارے میں کہا تھا: اللهم إن تهلك هذه العصابة من أهل الإسلام، لا تُعبد في الأرض (صحیح مسلم، رقم الحديث: 1763)۔

اس قولِ رسول میں العصابة سے مراد صحابہ کی جماعت ہے۔ صحابہ نے ہاجرہ کے بعد دوبارہ بے مثال قربانی کے ذریعے عہد ساز رول (epoch-making role) ادا کیا تھا۔ اصحابِ رسول کے اس غیر معمولی رول سے انسانی تاریخ میں وہ انقلاب آیا جس کو فرانسیسی مورخ ہنری پرین (وفات: 1935) نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے ــ اسلام نے زمین کے نقشہ کو بدل دیا۔ تاریخ کے روایتی ڈھانچہ کو اکھاڑ کر پھینک دیا گیا:

Islam changed the face of the globe. The traditional order of history was overthrone. صحابہ کی قربانیوں کے ذریعے تاریخ میں جو تبدیلی آئی، اس کو ایک لفظ میں اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ ــ صحابہ نے تاریخ میں پہلی بار مخلوق کی پرستش (nature worship) کے دور کو ختم کیا اور خالق کی پرستش کے دور کا آغاز کیا۔ بعد کے زمانے میں انسانی تاریخ میں جو دور رس تبدیلیاں آئیں، وہ سب اُسی انقلاب کا نتیجہ تھیں جو صحابہ کے ذریعہ ساتویں صدی عیسوی میں برپا ہوا تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2011 All issues

Printed page