الحمدللۂ کلچر
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۱، صفحہ ۱۷
الحمدللۂ کلچر
قرآن کی پہلی آیت یہ ہے: الحمد للہ رب العالمین (1:1)۔ یہ آیت دنیا کی زندگی کے بارے میں رب العالمین کے مطلوب کو بتاتی ہے۔ ٹھیک یہی آیت قرآن میں آخرت کے حوالے سے آئی ہے: وقيل الحمد للہ رب العالمین (75: 39)۔ یہ دوسری آیت آخرت میں خدا کے مطلوب کو بتا رہی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ خالق کائنات کو انسان کی زندگی میں ایک ہی کلچر مطلوب ہے، اور وہ الحمد للۂ کلچر ہے، موجودہ دنیا میں بھی الحمد للۂ کلچر، اور قیامت کے بعد بننے والی اگلی دنیا میں بھی الحمد للۂ کلچر۔
انسانوں کے درمیان اسی الحمدللۂ کلچر کو فروغ دینے کے لیے خدا نے مسلسل اپنے پیغمبر بھیجے۔ اس کے نتیجے میں کچھ افراد (individuals) ایسے پیدا ہوئے جنھوں نے اپنی ذاتی زندگی میں الحمد للہ کلچر کو اپنایا، لیکن عمومی حیثیت سے، پوری تاریخ میں الحمدلغیر اللہ کلچر چھایا رہا، انسانی زندگی کا پورا نقشہ الحمدلغیر اللہ کلچر کا عملی نمونہ بن کر رہ گیا۔ یہ معاملہ انسان کے بارے میں خدا کے تخلیقی منصوبہ کے سراسر خلاف تھا۔ اس لیے خدا نے تاریخ میں مداخلت کا فیصلہ کیا۔ خدائی مداخلت (divine intervention) کا یہ واقعہ ساتویں صدی عیسوی میں اصحاب رسول کے ذریعے ظہور میں آیا۔
قرآن میں اصحاب رسول کے رول کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة، ويكون الدين كله لله (8:39) یعنی اُن سے جنگ کرو، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب کا سب اللہ کے لیے ہوجائے۔ اس آیت میں فتنہ سے مراد شرک ہے، جیسا کہ مفسرین قرآن نے عام طور پر بیان کیا ہے۔ شرک کیا ہے، شرک دراصل الحمدلغیر اللہ کلچر کا دوسرا نام ہے۔ انسان، خالق کو دیکھ نہ سکا تو اُس نے دکھائی دینے والی مخلوقات کی پرستش شروع کر دی۔ وہ خالق کے بجائے مخلوق کی عظمت (glory) میں جینے لگا۔ اسی کا نام شرک ہے۔ اور اسی کو ہم نے الحمدلغیر اللہ کلچر کا نام دیا ہے۔ حمد کیا ہے حمد صرف اللہ کے لیے ہے۔ اللہ کے سوا کوئی اور اس کا سزا وار نہیں کہ اس کی حمد کی جائے۔ حمد
‹ Previous page Next page › Contents of April 2011 All issues