Al-Risala · April 2011 · page 23

علمی توسیع کا اصل سبب

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۱، صفحہ ۲۳

ناخوانده (illiterate) ہوتے تھے۔ مطالعۂ کتب کا مطلب صرف یہ تھا کہ مذہبی کتابیں برکت کے طور پر پڑھی جائیں یا بادشاہوں کے حالات کا مطالعہ کیا جائے۔

علمی توسیع کا اصل سبب

علم کی اس توسیع کا اصل سبب بلا شبہ قرآن تھا۔ قرآن، انسانی تاریخ کی پہلی کتاب ہے۔ جس میں بار بار نہایت تاکید کے ساتھ یہ بات کہی گئی کہ زمین و آسمان کی چیزوں میں غور کرو۔ قرآن نے اس غور و فکر کو اتنا زیادہ بڑھایا کہ اس کو عبادت کا درجہ دے دیا۔ سورہ آل عمران کے آخری رکوع میں کائنات میں غور و فکر کرنے والوں کو خصوصی مقام دیتے ہوئے فرمایا: الذین يتفكرون في خلق السماوات والأرض (191: 3)۔ اور سورہ فاطر میں بارش کے نظام، نباتات اور حیوانات اور پہاڑوں کی ساخت وغیرہ کا مطالعہ کرنے والوں کو علماء (28: 35) کا درجہ دیا گیا۔ قرآن میں پہلی بار اس حیثیت کا انکشاف کیا گیا کہ زمین و آسمان کو اس کے خالق نے انسان کے لیے مسخر (subservient) بنا دیا ہے (13: 45)۔ اس تصور کا نتیجہ یہ ہوا کہ نیچر انسان کو اپنا خادم نظر آنے لگی، نہ کہ معبود۔ اس طرح کی آیتیں قرآن میں کثرت سے موجود ہیں۔ قرآن کی ان آیتوں نے اہل ایمان کو علم کے ایک توسعی مفہوم سے متعارف کیا۔ اس کے مطابق، پوری کائنات گویا کہ ایک وسیع لائبریری قرار پائی۔ علم ایک محدود شعبہ نہ رہا، بلکہ وہ ایک آفاقی شعبہ بن گیا۔

یہ کوئی سادہ بات نہ تھی۔ اسلام کے ظہور سے پہلے ساری دنیا میں شرک کا رواج تھا۔ شرک دراصل مظاہر فطرت کی پرستش (nature worship) کا دوسرا نام ہے۔ شرک کے نظریے کے تحت، فطرت (nature) پرستش کی چیز بنی ہوئی تھی۔ جو چیز پرستش کا موضوع (object of worship) کا درجہ رکھتی ہو، وہ اسی وقت تحقیق کا موضوع (object of investigation) نہیں بن سکتی۔ مسلم دورِ اقتدار میں، قرآن کی آئیڈیالوجی کے تحت، یہ ہوا کہ عمومی طور پر فطرت (nature) کو الوہیت (divinity) کے درجے سے ہٹا دیا گیا۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ مظاہر فطرت بڑے پیمانے پر تحقیق و مطالعے کا موضوع بن گئے۔ اس نئے کلچر کا پہلا مرکز مدینہ بنا۔ اس کے بعد وہ دمشق پہنچا۔ اس

‹ Previous page Next page › Contents of April 2011 All issues

Printed page