Al-Risala · April 2011 · page 24

علمی توسیع کا اصل سبب

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۱، صفحہ ۲۴

کے بعد قاہرہ اور بغداد میں اس کو غیر معمولی فروغ ملا۔ اس کے بعد وہ مسلم اسپین تک پہنچا اور قرطبہ اور غرناطہ اس کا مرکز بنے۔ مسلم اقتدار کے تحت ، اس دورِ علم نے کائنات کی تمام چیزوں کو مطالعہ اور تحقیق کا موضوع بنا دیا ، جب کہ اس سے پہلے اُس کو صرف تقدس اور عبودیت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ اس حقیقت کا اعتراف مختلف اہل علم نے کیا ہے۔ مثال کے طور پر برٹش مورخ آرنلڈ ٹائن بی (وفات: 1975) نے یہ سوال قائم کیا ہے کہ فزیکل سائنس (physical science) تمام تر فطرت(nature) کی دریافت کا نام ہے۔ یہ فطرت ہمیشہ سے دنیا میں موجود تھی ۔ انسان ، اول دن سے اس کو دیکھ رہا تھا ، پھر ایسا کیوں ہوا کہ فطرت کی یہ دریافت بہت زیادہ تاخیر کے ساتھ صرف موجودہ زمانے میں ممکن ہوسکی۔ آرنلڈ ٹائن بی نے اس سوال کا جواب یہ دیا کہ قدیم زمانے میں انسان نے نیچر (فطرت) کو مقدس (sacred) سمجھ لیا تھا۔ وہ نیچر کو خدائی کا درجہ دئے ہوئے تھا۔ اس بنا پر انسان، نیچر کی تحقیق یا اس کو مسخر کرنے کی بات نہ سوچ سکا۔ ٹائن بی (Arnold Toynbee) کے مطابق، بعد کے زمانے میں جب توحید (monism) کو فکری غلبہ حاصل ہوا اور اس نے شرک کے نظریے کو ختم کیا تو اس کے بعد انسان کے اندر نیچر کے بارے میں ایک نئی سوچ پیدا ہوئی جو آخر کار سائنسی انقلاب کا سبب بنی۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو راقم الحروف کی کتاب ’’اسلام دورِ جدید کا خالق‘‘)۔ انسان مرکزی پلان خدا کا تخلیقی منصوبہ انسان مرکزی منصوبہ (man-centered plan) ہے۔ اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وسخر لكم ما في السماوات ومافي الأرض جميعاً منه (13 :45) یعنی زمین اور آسمان کا پورا نظام انسان کی ضرورت کے مطابق بنایا گیا ہے۔ ہر چیز براہ راست یا بالواسطہ طور پر انسان کی کسی نہ کسی ضرورت سے جڑی ہوئی ہے۔ ساتویں صدی عیسوی میں جب قرآن نازل ہوا ، اس وقت یہ بات صرف ایک عقیدہ کی حیثیت رکھتی تھی، لیکن اکیسویں صدی عیسوی میں یہ چیز ایک سائنسی حقیقت بن چکی ہے۔ جدید ترین سائنسی تحقیقات نے بتایا ہے کہ پوری کا ئنات کسٹم میڈ (custom-made) کائنات ہے، یعنی مکمل طور پر انسانی تقاضوں کے مطابق۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2011 All issues

Printed page