Al-Risala · April 2011 · page 25

اخوانِ رسول کا دور

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۱، صفحہ ۲۵

انسان کو خدا کے تخلیقی منصوبہ سے آگاہ کرنے کے لیے ہر دور میں خدا کی طرف سے پیغمبر بھیجے گئے۔ یہ پیغمبر عام انسانوں کی طرح ایک انسان ہوتے تھے، اس لیے اُن کے معاصرین اُن کو پہچان نہ سکے۔ انھوں نے ان کا استہزا (35:30) کیا اور ان کو ماننے سے انکار کر دیا۔ دعوتی مشن کے لیے ہمیشہ ایک خارجی تائید کی ضرورت ہوتی ہے، اس لیے انبیاء کو یہ تائید معجزہ (miracle) کے ذریعے دی گئی۔ آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی حسی معجزہ نہیں دیا گیا (59:17)۔ اس کے برعکس، آپ کے لیے خصوصی منصوبہ کے تحت، قابلِ کار انسانوں کی ایک طاقت وٹریم فراہم کی گئی۔ اس ٹیم کی تائید سے پیغمبر اسلام نے اپنے تاریخی مشن کو مکمل کیا۔ اسی ٹیم کو اصحابِ رسول کہا جاتا ہے۔ یہ ٹیم ایک صحرائی کلچر (desert culture) کے ذریعے تیار کی گئی۔ اس صحرائی کلچر نے گویا کہ تائید کا وہ کام کیا جو پیغمبروں کے زمانے میں معجزہ کے ذریعے انجام پایا تھا۔

اخوانِ رسول کا دور

تاریخ میں تیسرا رول اُس گروہ کا ہے جس کو حدیث میں اخوانِ رسول کہا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: ودہتُ أنا قد رأينا إخواننا، قالوا: أو لسنا إخوانك يا رسول الله، قال: أنتم أصحابى، وإخواننا الذين لم يأتوا بعد (صحیح مسلم، رقم الحديث: 249) یعنی رسول اللہ صلی اللہ نے فرمایا کہ میری خواہش ہے کہ ہم اپنے اخوان (بھائیوں) کو دیکھیں ۔ صحابہ نے کہا کہ اے خدا کے رسول ، کیا ہم آپ کے اخوان نہیں ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ تم میرے اصحاب ہو، ہمارے اخوان وہ ہیں جو ابھی نہیں آئے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوتی مشن میں ساتھ دینے والے معاصر اہلِ ایمان (contemporary believers) کو اصحابِ رسول کہا جاتا ہے۔ تاریخ کے آخری دور میں پیغمبر اسلام کے دعوتی مشن کے لیے دوبارہ اٹھنے والے غیر معاصر اہلِ ایمان کو اخوانِ رسول کہا گیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دعوتِ الی اللہ کے مشن کو دوبارہ دریافت کریں گے اور آخری زمانے کے انسانوں تک حق کا پیغام پہنچائیں گے۔ اخوانِ رسول کا مشن ایک اور حدیث سے معلوم ہوتا ہے جس میں اُن کے

‹ Previous page Next page › Contents of April 2011 All issues

Printed page